وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے پاکستان اکیڈمی آف سائنسز (پی اے ایس) اور سائنس دانوں پر زور دیا کہ وہ صحت عامہ اور گلوبل ہیلتھ سءکورٹی سے متعلق غلط اطلاعات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
منگل کو پاکستان اکیڈمی آف سائنسز (پی اے ایس) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویبنار ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اطلاعات کی فراوانی سے لوگوں کو جھوٹے یا گمراہ کن معلومات میں حقیقی اور قابل اعتماد اطلاعات کی پہچان مشکل ہوجاتا ہے۔
۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ایک طرف ہمیں وبائی مرض پر قابو پانا ہے اور دوسری طرف ہم ملک میں لاک ڈاون اور لوگوں کو بھوک سے مرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ، “سمارٹ لاک ڈاؤن” کی حکومتی پالیسی کامیابی کے ساتھ کام کرتی رہی اور اسے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔
شبلی فراز نے معاشرے کے مختلف طبقات جیسے مذہبی رہنماؤں ، ماہرین تعلیم اور مخیر حضرات کو اس صورتحال سے نمٹنے میں حکومت کیساتھ تعاون کرنے کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری کے خلاف عالمی رد عمل کی تیاری کے لئے سب سے اہم مسئلہ ویکسینز کی تیاری اور اسکو تقسیم کرنے کا تھا۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ نے بھی 2040 تک اپنی ویکسین کی پیداواری صلاحیت 1 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی پاکستان میں ایسی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کرے گی۔
Dosti Channel FM 98 Voice of Friendship

