امریکی نظام کووڈ-19 سے متعلق سائنسی تحقیقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، نیچر

برطانوی جریدہ نیچر میں شائع ایک مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکہ میں کووڈ-19 کے مصدقہ کیسز میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور متغیر وائرس میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن دوسری جانب امریکہ میں وائرس پر تحقیق اور مشاہدے کا کام سست روئی کا شکار ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ویکسین کی تاثیر میں کمی آئی ہے بلکہ متغیر وائرس بھی تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ مذکورہ مضمون میں لکھا گیا ہے کہ گلوبل انیشیٹیو آن شیرنگ ایوین انفلونزا ڈیٹا کے مطابق وبا کے دوران امریکہ میں جینوم سیکوینس کا کام کم از کم تیس ممالک اور علاقوں سے پیچھے ہے۔

امریکہ کے دس سے زائد متعلقہ تحقیقاتی اراکین نے کہا  ہےکہ امریکہ جینوم سیکوینس کی استعدکار کو بڑی حد تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن نظام صحت عامہ بکھرا پڑا ہے جس کے باعث مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی مشکل ہوگئی ہے۔ 

امریکہ کے انسداد امراض کے مرکز کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں کورونا وائرس کی پانچ  متغیر صورتیں برآمد ہوئی ہیں جن کی نہ صرف وبائی صلاحیت پہلے سے مضبوط ہے بلکہ ان میں سنگین امراض پیدا کرنے کا امکان بھی زیادہ ہے اور ویکسین کی تاثیر کو  کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔   

یہ خبر پڑھیئے

بھارت کو اب پاکستان کے ساتھ با معنی مذاکرات کی طرف آنا چاہیئے: سینیئر تجزیہ کار مخدوم بابر

امریکہ اور مغرب اپنے گریبان میں جھانکیں: سینیئر تجزیہ کار مخدوم بابر

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons