عالمی شہرت یافتہ قوال غلام فرید صابری کی 27 ویں برسی

عالمی شہرت یافتہ قوال غلام فرید صابری کی 27 ویں برسی

پاکستان میں فن قوالی کو بام عروج تک پہنچانے والے استاد غلام فرید صابری کو دنیا سے رخصت ہوئے 25 برس بیت چکے ہیں لیکن ان کی قوالیوں کی گونج آج بھی فضاؤں میں سنائی دیتی ہے۔

‘تاجدارِ حرم’ اور اس جیسی دیگر کئی مقبول قوالیوں سے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کر دینے والے غلام فرید صابری نہ صرف پاکستان کے مقبول ترین قوال تھے بلکہ دنیا بھر میں قوالی کے کروڑوں چاہنے والوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔

غلام فرید صابری 1930 میں بھارتی صوبے مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، انھیں بچپن سے ہی قوالی گانے کا شوق تھا، انہوں نے قوالی کی باقاعدہ تربیت اپنے والد عنایت صابری سے حاصل کی۔ 70 اور 80 کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا، انھوں نے “بھر دو جھولی میری یا محمد” جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منویا۔

قوالی کے فن ميں يکتا حاجی غلام فريد صابری نے 1946 ميں پہلی دفعہ مبارک شاہ کے عرس پر ہزاروں لوگوں کے سامنے قوالی گائی، جہان ان کے انداز قوالی کو بہت پسند کیا گیا۔

قوالی کے فن میں استاد کا درجہ رکھنے والے غلام فريد صابری نعتیہ قوالی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، جب آپ محفل سماع سجاتے تو سننے والوں پر سحر طاری ہوجاتا۔ 70 اور 80 کی دہائی میں غلام فرید صابری اور ان کے بھائی مقبول صابری کی جوڑی کا کوئی ہم پلہ نہ تھا۔
غلام فرید صابری کی قوالیوں میں تاجدارِحرم، بھردو جھولی، سرِلامکاں سے طلب ہوئی، ملتا ہے کیا نماز میں مشہورِ زمانہ کلام رہے۔

غلام فرید صابری 5 اپریل 1994 کو علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے تھے قوالی کی تاریخ غلام فرید صابری اور ان کے خانوادے کے بغیر ادھوری تصورکی جائے گی۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان سپر لیگ 6 کے باقی میچز کا شیڈول جاری کر دیا گیا

پاکستان سپر لیگ 6 کے باقی میچز کا شیڈول جاری کر دیا گیا

پاکستان سپر لیگ 6 کے باقی میچز کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ شیڈول …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons