تازہ ترین

کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہیں، چینی سفیر

پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاو چنگ نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکومت، عوام اور ذرائع ابلاغ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے چین کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووہان شہر میں مقیم پاکستانی طلباء نے بہادری کا ثبوت دیا ہے۔

“بہت سے پاکستانی طلباء آج بھی ووہان میں موجود ہیں، کیونکہ پاکستان کی حکومت نے انہیں حفاظتی اقدامات کے پیش نظر واپس نہیں بلایا۔ چین کے دیگر صوبوں سے پاکستانی شہریوں اور طلباء کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت نوول کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ووہان میں 739 طلباء موجود ہیں، جو اپنے کمروں تک محدود ہیں۔ وہ لوگ جانتے ہیں کہ صرف ضروری اشیاء کی خریداری کیلئے ہی باہر نکلنا بہتر ہے۔ یقیناً ایسی صورتحال میں اگر میں بھی ہوتا تو پریشان ہوجاتا۔ وہ نوجوان ہیں، غیر تجربہ کار ہیں، پردیس میں رہتے ہیں، لیکن وہ اپنا وقت اور آزادی قربان کر رہے ہیں۔”

چینی سفیر نے کہاکہ اس وقت چین کے تعلیمی اداروں میں نئے سیمسٹر کا آغاز ہورہا ہے اور بیشتر طلباء اسکی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت، پارلیمانی اداروں نے چین کیلئے بھرپور حمایت کا اظہار کیا، جبکہ وباء کے آغاز ہی سے پاکستان نے چین کو اس وقت حفاظتی ماسک فراہم کئے، جب چینی عوام کو ان کی اشد ضرورت تھی۔

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان چین سے کیسے راہنمائی حاصل کرسکتا ہے، چینی سفیر نےکہا کہ پاکستان میں اب تک کرونا وائرس کے 2 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

“آپ کے مشیر صحت پہلے ہی بتاچکے ہیں کی اس بیماری کا علاج ممکن ہے اور اب تک چین اس وباء کے حوالے سے طبی سطح پر بہت سے تجربات کرچکا ہے۔ اسکے علاوہ ہمیں یہ معلومات بھی حاصل ہیں کہ اس وباء سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں یہی کہوں گا کہ ملنے جلنے میں احتیاط کریں، کیونکہ یہ وائرس سانس کے ذریعے پھیلتا ہے۔”

چینی سفیر نے کہا کہ چین اس حوالے سے پاکستان کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستانی عوام کیلئے ان کا وہی پیغام ہے جو پاکستانی حکومت عوام تک پہنچا رہی ہے، کہ پریشانی اور افراتفری سے گریز کریں۔

سی پیک کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں چینی سفیر نے کہا کہ بہت سے منصوبوں پر کام کرنیوالے چینی ماہرین کو تاحال پاکستان واپس نہیں بھیجا گیا، تاہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تقریباً 2 ہزار منصوبوں پر کام جاری ہے اور پاکستانی ماہرین اور ملازمین مصروف عمل ہیں۔

“موٹروے پر بھی کام جاری ہے، کیونکہ ایسے منصوبوں میں بہت زیادہ لوگوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ وباء کسی حد تک سی پیک کے دوسرے مرحلے پر اثرانداز ہوسکتی ہے، کیونکہ اسکی منصوبہ بندی کیلئے مارچ کے پہلے ہفتے میں اہم اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ لیکن اس وقت کیونکہ وفود کا تبادلہ ممکن نہیں، اس لئے اجلاس کیلئے ویڈیو کانفرنسنگ سے مدد لی جائے گی۔ پاکستان میں اپریل کے دوران طلب کئے گئے جے سی سی کے اجلاس کیلئے ابھی  حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، کیونکہ ممکن ہے اس وقت تک وباء کی صورتحال بہتر ہوجائے۔”

چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک پر مرتب ہونیوالے اثرات مستقل نہیں ہیں۔ چین کی جانب سے پاکستان میں طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے  چینی سفیر نے بتایا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں 30 اسپتالوں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی اور یہ چین کی جانب سے پاکستانی عوام کیلئے تحفہ ہوگا۔

“بلوچستان میں موجود برن سینٹر کے علاوہ سندھ میں قائم ایمرجنسی سینٹر کو چینی حکومت کی جانب سے جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی، ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو تربیت فراہم کی جائے گی، اور اس نوعیت کے منصوبوں کی مجموعی تعداد 30 ہے۔ ان منصوبوں پر کام کا آغاز حکومت پاکستان کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔”

چینی سفیر نے کہا کہ رواں سال کے پہلے نصف حصے میں گوادر کے علاوہ بلوچستان کے دیگر حصوں اور سندھ کے چند اسپتالوں کی صورتحال کو بہتر بنالیا جائے گا۔

یہ بھی چیک کریں

سعودی حکومت کا حج معاہدے مؤخر کرنے پر زور

سعودی حکومت کا حج معاہدے مؤخر کرنے پر زور

سعودی عرب کی حکومت نے دنیا بھر کے ممالک پر زوردیاہے کہ وہ اس سال …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons