تازہ ترین
کرونا وائرس کے انسداد کے لئے چین کی کاوشوں پر عالمی ادارہ صحت کے ماہر کا تبصرہ

کرونا وائرس کے انسداد کے لئے چین کی کاوشوں پر عالمی ادارہ صحت کے ماہر کا تبصرہ

چوبیس تاریخ کو کووڈ-۱۹ کے حوالے سے چین اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی گروپ نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

اس موقع پر گروپ کے غیرملکی سربراہ، عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے مشیراعلی بروس ایلورڈ نے کہا کہ “چین کا اپنایا ہوا ماڈل فی الحال سب سے کامیاب ماڈل ثابت ہوا ہے۔ “

تحقیقاتی گروپ کا خیال ہے کہ چین نے وباء کے پھیلاؤ اور وائرس کی انسانوں میں منتقلی کو روکنے میں نمایان کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چین کے اقدامات سے کووڈ-۱۹ کے لاکھوں کیسز کو روکا گیا ہے یا کم از کم ان کے رونما ہونے کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔

تازہ ترین اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوبیس تاریخ کو مین لینڈ چائنا میں صوبہ حوبے کے سوا دوسرے علاقوں میں نئے کیسز کی تعداد دس سے کم ہو گئی ہے۔ جیسا کہ چین کے اعلی ترین رہنما نے حال ہی میں ایک ٹیلی کانفرنس میں کہا کہ حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ چین کے اقدامات بر وقت اور مؤثر ہیں جو چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اور چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کی نمایان خوبی کی عکاسی ہے۔

متعدد غیرملکی نیٹ صارفین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے مختلف علاقوں میں پانی اور بجلی کی فراہمی بلاتعطل جاری ہے، ہیٹنگ کا نظام بغیر رکاوٹ کے چل رہا ہے اور مواصلات میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں آئی ہے، اسی طرح ضروریات زندگی کی فراہمی مسلسل جارہی ہے اور سماجی نظم و نسق مستحکم اور برقرار ہے۔ ایسا بیرون ممالک میں ناقابل تصور ہے۔ مذکورہ تبصرہ چین میں اعلی طرز حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی صحت عامہ کے لئے ایک ذمہ دارانہ ملک کی حیثیت سے چین اپنے نظام کی خوبی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وباء کے خلاف اپنی بھرپورجدوجہد جاری رکھے گا، مختلف فریقوں کے ساتھ مل کر وباء کی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق تجربات شیئر کرے گا، اینٹی وائرل ادویات اور ویکسین کی تحقیق کے لئے تعاون کو مضبوط بنائے گا اور اپنی صلاحیت کے مطابق امداد فراہم کرے گا۔

یہ بھی چیک کریں

سعودی حکومت کا حج معاہدے مؤخر کرنے پر زور

سعودی حکومت کا حج معاہدے مؤخر کرنے پر زور

سعودی عرب کی حکومت نے دنیا بھر کے ممالک پر زوردیاہے کہ وہ اس سال …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons