تازہ ترین
کرونا وائرس: چین سے پاکستانی شہریوں کو واپس نہ بلانا حکومت پاکستان کا ایک ذمہ دارنہ فیصلہ ہے، چینی سفیر

کرونا وائرس: چین سے پاکستانی شہریوں کو واپس نہ بلانا حکومت پاکستان کا ایک ذمہ دارنہ فیصلہ ہے، چینی سفیر

پاکستان میں  تعینات چینی سفیر یاؤ چنگ نے کہا ہے کہ چین میں کرونا وائرس کے خلاف مہم کو اولین  ترجیح دی گئی ہے۔

پاکستا ن میں  تعینات چینی سفیر یاؤ چنگ نے کہاہے کہ چینی صدرشی چن پھنگ اوروزیراعظم لی کھ چھیانگ نمونیا کا باعث بننے والے کرونا وائرس کے حوالے سے جاری مہم سے پوری طرح آگاہ ہیں اوراس مہم کی ذاتی طور پر خود نگرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے ایف ایم 98 دوستی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی شرح، صحت یاب ہونے والوں کی شرح سے کم ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ چینی حکومت اور طبی ماہرین کرونا وائرس پر قابو پانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

یاؤ چنگ نے کہا کہ یہ چین کے لیئے ایک اچانک پیدا ہونے والا چیلنج ہے اور چین اس مہلک وباء کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے بارے میں ہم پاکستانی ذرائع ابلاغ کے خدشات سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس تناظر میں پاکستانی وزارت خارجہ، وزارت صحت اور چین میں قائم پاکستانی سفارتخانے نے چینی حکومت اورچینی مقامی انتظامیہ سے فوری طور پررابطہ کرکے اپنے خدشات کو دور کیا ہے۔ چینی سفیر کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے کوئی بھی پاکستانی اس مہلک وباء سے متاثرنہیں  ہوا، جبکہ پاکستان میں مقیم پانچ چینی باشندوں کی اس مرض کے ممکنہ اثرات کے خدشہ کے پیش نظر ان کو ہسپتال میں منتقل کرنے کے بعد ایک ہفتہ تک مسلسل نگرانی کی گئی ہے، جس کے بعد انہیں صحت یاب قرار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق رواں ہفتے یا پھر آئندہ ہفتہ اس مہلک وباء سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان ہے تاہم اس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی   مگر ہم اسکے بارے میں کوئی یقینی پیش گوئی نہیں کر سکتے۔

چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چینی حکومت نے جشن بہار کی تعطیلات میں اضافے کا اعلان کیا تھا اوراسی وجہ سے چین اور پاکستان کے درمیان چند چینی فلائٹس اور پی آئی اے کی فلائٹس آج تک کیلئے بند کی گئی تھیں۔ انہوں نےکہا کہ ہم پاکستان میں مقیم تمام چینی شہریوں کی نگرانی اور ریجسٹریشن کر رہے ہیں، خصوصا ان کی جو گزشتہ دنوں چینی صوبے حہ بے اور متاثرہ شہر ووہان سے پاکستان آئے ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین سے پاکستان آنے والے تمام چینی باشندوں کو دو ہفتوں کیلئے آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے کیونکہ انکیوبیشن کا عرصہ 14 دن ہے۔ پاکستان میں مقیم چینی باشندوں میں سے اب تک کسی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی اورنہ ہی لاحق ہونے کا شبہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ چین میں مقیم پاکستانی باشندوں میں سے 4 پاکستانیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے تاہم وہ وہان شہر میں مقیم نہیں ہیں بلکہ وہ چین کے جنوبی حصے میں واقع شہر گوانگ زو میں مقیم ہیں۔ چینی سفیر کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان چاروں کی بہت اچھے انداز میں دیکھ بھال کی جارہی ہے اور آج صبح ہی مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کی حالت میں بہتری آرہی ہے اور امید ہے کہ وہ چند دن میں  ہسپتال سے خارج کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ چین کے متاثرہ شہرووہان میں کسی بھی پاکستانی شہری میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔ چینی سفیرکاکہنا تھا کہ ہم نے پاکستانی شہریوں خصوصا طلبہ کی  دیکھ بھال کیلئے ایک خاص معاون وہاں تعینات کیا ہے۔

چینی سفیرنے مزید کہاکہ چین میں مقیم پاکستانی شہریوں کا اپنے شہریوں اور طلبہ کا اپنے بچوں کی طرح  خیال رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری روایت ہے کہ ہم اپنے مہمانوں کا اپنے لوگوں سے زیادہ خیال رکھتے ہیں، لہذا اس بات پر یقین رکھیے کہ چین میں موجود پاکستانی کمیونٹی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے اوران کا بہت خیال رکھا جا رہا ہے۔

چینی سفیر نے کہاکہ چین میں مقیم پاکستانی شہری، چینی شہریوں کی طرح ہی اہم ہیں۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی مقامی انتظامیہ کی ہدایات پرعمل کریں جہاں وہ رہائش پذیر ہیں۔ مثال کے طور پر وہ کم نقل و حمل کریں، دوسروں سے براہ راست روابط کم رکھیں اورعوامی اجتماعات سے گریز کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ بھی چند مزید حفاظتی اقدامات ہیں جیسے ماسک کا استعمال اور زیادہ سے زیادہ ہاتھ دھونا۔ چینی سفیر نے کہاکہ ان سب کیلئے بہتریہ ہے کہ وہ پرسکون اور پراعتماد رہیں۔ چین کو ایسی وباؤں سے نمٹنے کا سب سے زیادہ  تجربہ ہے اوراس وقت ہم علاج اورادویات کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ   موثر اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

یاؤ چنگ نے کہاکہ پاکستانی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس وقت چین میں مقیم پاکستانی شہریوں کو چین سے واپس نہ بلایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں یہ سائنسی اعتبار سے ایک ذمہ دارنہ فیصلہ ہے۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ اس قسم کی پابندی پورے چین کیلئے نہیں, صرف چین کے متاثرہ شہر ووہان میں ہے۔ چینی سفیر نے کہاکہ اس صوبےاورشہر سے باہر بسنے والے پاکستانی، کسی بھی قسم کے نقل و حمل کیلئے   آزاد ہیں تاہم ہم اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے کیونکہ عالمی ادارہ صحت کا یہ مشورہ ہے کہ زیادہ نقل و حمل سے گریز کیا جائے۔

یہ بھی چیک کریں

مائیک پومپیو کا جھوٹ اور امریکہ کی گمراہی: سی آر آئی کا تبصرہ

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے حال ہی میں میونخ سیکورٹی کانفرنس میں کہا “مغربی ممالک …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons