تازہ ترین

چینی سفارتخانے کی جانب سےایلس ویلز کا سی پیک سے متعلق منفی بیان مسترد

پاکستان میں قائم چینی سفارتخانے کی جانب سے امریکی قائم مقام معاون وزیرِ خارجہ برائے وسطی و جنوبی ایشیا ایلس ویلز کے حالیہ دورہِ پاکستان کے موقع پر سی پیک سے متعلق منفی بیان کو مکمل طورپر مسترد کر دیا گیا ہے۔

چینی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا ہےکہ ایلس ویلز کے مذکورہ بیان میں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ بیان گزشتہ سال نومبر میں ان کی جانب سے کی جانے والی تقریر سے مماثلت رکھتا ہے، جسے چین اور پاکستان کی جانب سے متعدد بار مسترد کیا جا چکا ہے۔ ترجمان نے کا کہ چین، پاک امریکہ تعلقات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، تاہم پاک چین تعلقات اور سی پیک میں امریکی مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنا موقف واضح کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے منفی پروپیگنڈہ مسترد کرتا ہے۔

چینی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں جھوٹ کو پھیلنے سے روکنا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے منصوبے میں چین اور پاکستان باہمی مفادات کیلئے تعاون اور مفاہمت کے اصولوں پر کام کرتے ہیں، جبکہ چین پاکستانی عوام کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ گزشتہ 5 سال کے دوران سی پیک کے منصوبے میں اہم پیش رفت ہوئی، جس کے تحت 32 منصوبے قبل از وقت مکمل کئے جاچکے ہیں۔

چینی ترجمان نے کہا ہے کہ ان منصوبوں کے تحت ذرائع آمدورفت، بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے میں بہتری آئی ہے اور 75 ہزار ملازمتوں کے مواقع بھی میسر آئے ہیں، جس سے پاکستان کے جی ڈی پی میں 1 سے 2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چینی ترجمان نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے جواب امریکہ کے بجائے پاکستان کو دینا چاہیئے، جبکہ چینی حکومت کی جانب سے چینی کمپنیوں کو پاکستانی قوانین وضوابط کے مطابق کام کرنےکا مطالبہ کیا جا تا ہے۔ چینی ترجمان نے کہاکہ سی پیک میں شریک تمام چینی ادارے بین الاقوامی معیار کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چین پاکستان میں احتساب کیلئے قائم اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اوراس امر پرمتفق ہے کہ سی پیک کامنصوبہ شفاف ہے۔

چینی ترجمان نے کہا کہ امریکہ دنیا کے مختلف ممالک پر پابندیاں عائد کرتا رہا ہے، تاہم ایسے اقدامات کا مقصد صرف امریکی سیاسی مقاصد کی تکمیل ہے۔ انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ 110 ارب امریکی ڈالرز ہے، جس میں سی پیک کا قرضہ 5.8 ارب امریکی ڈالرز ہے، جو پاکستان کے بیرونی قرضےکا 5.3 فیصد ہے۔ چینی ترجمان نے کہا کہ اس قرضے کی واپسی کی مدت 20 سے 25 سال اور شرح سود تقریباً 2 فیصد ہے، تاہم قرضے کی واپسی سال2021 میں شروع ہوگی اور اس کی سالانہ قسط 30 کروڑ امریکی ڈالرز ہوگی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ قرضہ پاکستان پر بوجھ ثابت نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دراصل پاکستان نے سب سے زیادہ قرض آئی ایم ایف اور پیرس کلب سے حاصل کئے ہیں۔

چینی ترجمان نے ایم ایل ون منصوبے سے متعلق ایلس ویلز کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ 2016 میں پیش کیا گیا اور اس کا ابتدائی ڈھانچہ مئی 2017 میں جمع کروایا گیا، جو اپریل 2019 میں منظور کرلیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ایم ایل ون کا منصوبہ تاحال منظور نہیں کیا گیا، جبکہ منصوبے کی لاگت کا تخمینہ پاکستان کے حالات اور ضروریات کے مطابق طے کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایم ایل ون کے بنیادی ڈھانچے کی منظوری کے بعد بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق بولی لگائی جائے گی، جو مکمل طور پرعمومی تجارتی طریقہ کار ہے۔ انہوں نےکہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات چٹان کی طرح مضبوط اور لازوال ہیں۔ چینی ترجمان نےاس عزم کا اظہار کیا کہ چین علاقائی امن و ترقی کے فروغ، ایک پٹی ایک شاہراہ اور سی پیک کو آگے بڑھانے کیلئے پاکستانی حکومت اورعوام کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

یہ بھی چیک کریں

پی ایس ایل 5: اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

پی ایس ایل 5: اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

پاکستان سپر لیگ کے 5ویں ایڈیشن کے 5ویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons