تازہ ترین
اردو زبان کے شہرہ آفاق شاعر اور قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا 120واں یوم پیدائش

قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کا 120واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے

اردو ادب کے نامور شاعر اور قومی ترانے کے خالق ابو الاثر حفیظ جالندھری کا 120واں یوم پیدائش آج نہایت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے

حفیظ جالندھری ایک نامور شاعر اور نثرنگار ہیں آپ 14 جنوری 1900 کو ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے اور آزادی کے وقت آپ لاہور منتقل ہو گئے، آپ کا قلمی نام ’ابولاثر‘ تھا۔

آپ کا سب سے اہم فنی کارنامہ اسلام کی منظوم تاریخ ہے جس کا نام ’شاہ نامۂ اسلام‘ ہے لیکن آپ کی وجۂ شہرت پاکستان کا قومی ترانہ ہے۔ آپ کی خدمات کے صلے میں آپ کو شاعرِاسلام اور شاعرِ پاکستان کے خطابات سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر اعزازات میں انہیں ہلال امتیاز اور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں

کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے

آپ کا موضوع سخن فلسفہ اور حب الوطنی ہے آپ کی بچوں کے لیے لکھی تحریریں بھی بے حد مقبول ہیں۔

آپ غزلیہ شاعری میں کامل ویکتا تھے، 1925 میں ’نغمہ زار‘ کے نام سے حفیظ کا پہلا مجموعہ کلام شائع ہوا۔ ملکہ پکھراج کا گایا ہوا شہرہ آفاق گیت ابھی ’تو میں جوان ہوں‘ بھی اسی مجموعے میں شامل تھا۔

آخر کوئی صورت تو بنے خانہٴ دل کی

کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے

اس کے بعد سوزوساز، تلخابہ شیریں، چراغ سحر اور بزم نہیں رزم کے عنوانات سے ان کے مجموعہ ہائے کلام سامنے آئے۔

دیکھا جو تیرکھا کہ کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982 کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر 82 سال تھی۔

شعر وادب کی خدمت میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے

یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی باتیں نہیں

یہ بھی چیک کریں

پی ایس ایل 5: اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

پی ایس ایل 5: اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

پاکستان سپر لیگ کے 5ویں ایڈیشن کے 5ویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons