تازہ ترین
شاعر و مزاح نگار ابن انشاء کی آج 42ویں برسی

شاعر و مزاح نگار ابن انشاء کی 42ویں برسی

معروف شاعر اور ادیب ابن انشاء کو مداحوں سے بچھڑے 42 سال گزر گئے-

ابنِ انشاء 15 جون 1927ء کو بھارت کے صوبہ پنجاب ضلع جالندر میں پیدا ہوئے۔ ابنِ انشاء کا اصل نام شیر محمد خان تھا۔ ابنِ انشاء اردو ادب کے مشہور مزاح نگار تھے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ مزاح نگاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے شاعری، سفرنامہ نگاری اور کالم نگاری میں بھی اپنا قلم آزمایا۔ ابنِ انشاء نے اقوامِ متحدہ میں بھی کام کیا جس کے باعث انھیں بہت سے ممالک میں جانے کا موقع ملا اور اس سفر سے متاثر ہو کر انھوں نے سفر نامے لکھے۔

ابنِ انشاء نے 11 سال کی عمر میں شاعری شروع کی، 1942ء میں آپکی پہلی نظم ساحل پر رسالہ شاہکار میں چھپی۔ مزاح نگاری میں انہوں نے بہت سے کالم اور مضامین لکھے جو بعد میں کتابوں کی شکل میں چھپے۔ ابنِ انشاء کی شاعری میں الف لیلوی اور میر کا رنگ ہے۔ اس طرح کی شاعری انکی شخصیت کے ایک اور پہلو کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ لوگوں کو ہنساتے تھے مگر خود کوچ کرنے کی باتیں کرتے تھے۔

ابنِ انشاء کی تصانیف میں چلتے ہو تو چین کو چلئیے، آوارہ گرد کی ڈائری سے، دنیا گول ہے، ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں، آپ سے کیا پردہ، اردو کی آخری کتاب، اس بستی کے اک کوچے میں، چاند نگر، دلِ وحشی، اور چند چینی نظموں کا ترجمہ شامل ہے۔ ابنِ انشاء خود کو وحشی اور دیوانہ کہتے تھے مگر معاشرتی مسائل کو طنزیہ انداز میں پیش کر کے لوگوں کو ہنسانے کا فن خوب جانتے تھے۔

ابنِ انشاء کے کلام کو برِصغیر کے بہت سے گلوکاروں نے گایا جن میں امانت علی خان کی آواز میں انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اور کل چودھویں کی رات نا قابلِ فراموش ہیں۔ 11 جنوری 1978ء کو لندن میں بیماری کے باعث ابنِ انشاء اس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔ وہ جوگی وہ دیوانہ جو کسی اور نگر کا باسی تھا اس شہر میں اسکا جی نہ لگا تو بالآخر اُسی نگر کو چلا گیا۔

یہ بھی چیک کریں

امریکہ میں کرونا وائرس مسلسل پھیل رہا ہے

امریکہ میں کرونا وائرس مسلسل پھیل رہا ہے

امریکہ میں کرونا وائرس مسلسل پھیل رہا ہے اور صحت کے حکام نے کہا ہے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons