چین کی جانب سے حیاتیاتی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق امریکی رویے پر کڑی تنقید

چین کی جانب سے حیاتیاتی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق امریکی رویے پر کڑی تنقید

حیاتیاتی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کنونشن کے توثیقی پروٹوکول پر مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کافی عرصے سے ایک رکاوٹ ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان حوا چھون اینگ نے 6 تاریخ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ “امریکی بہانہ” سمجھ سے بالاتر ہے- امریکی اقدام سے “تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاؤ” کے نظام کی اصل روح کو پامال کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں سے، امریکہ مذکورہ پروٹوکول پر مذاکرات کے دوبارہ آغاز میں ایک رکاوٹ رہا ہے۔ امریکہ یہ جواز پیش کرتا ہے کہ حیاتیاتی فیلڈ کی جانچ پڑتال نہیں کی جاسکتی ہے، اور بین الاقوامی جانچ پڑتال سے ‘امریکی قومی مفادات اور تجارتی خفیہ معلومات’ کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، جو ‘صنعتی جاسوسی’ کے لئے سازگار ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی سلامتی، تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاؤ کے شعبوں میں، امریکہ نے بارہا ایسا یکطرفہ اور دوہرا معیار اپنایا ہے جس سے اس نظام کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

Please follow and like us:

مزید پڑھیں

ایلس ویلز کی آج پاکستان آمد، 22 جنوری تک قیام کریں گی

امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز آج پاکستان آئیں گی، پاکستانی حکام سے باہمی امور …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Facebook
Facebook
Twitter
Visit Us
YouTube
YouTube