معروف گلوکار سلیم رضا کی 36 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

معروف گلوکار سلیم رضا کی 36 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

ماضی کے معروف گلوکار سلیم رضا کی 36ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

مدھر آواز کے مالک سلیم رضا چار مارچ 1932 کو ہندوستانی پنجاب کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی۔ انہوں نے گلوکاری کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور 1955 میں فلم نوکر سے فلمی صنعت میں قدم رکھا اور اسی سال ریلیز ہونیوالی فلم قاتل کے گیت گا کر وہ کافی مقبول ہو گئے۔

مگر انہیں اصل شہرت 1957 میں فلم سات لاکھ کے گیت یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں سے ملی، جس کے بعد انھوں نے متعدد فلموں کو اپنے گیتوں سے مزئین کیا، جن میں اے دل کسی کی یاد میں، جان بہاراں رشک چمن اور کہیں دو دل جو مل جاتے جیسے متعدد یادگار نغمات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جادو یہ نگاہیں، تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم ، میرے دل کی انجمن میں اور مشہور نعت شاہ مدینہ سرفہرست ہیں۔ تاہم 1966 میں فلم پائل کی جھنکار کے گیت حسن کو چاند جوانی کو غزل کہتے ہیں کے بعد ان کا زوال شروع ہوگیا۔

فلمی صنعت میں احمد رشدی، مہدی حسن، مسعود رانا، مجیب عالم اور دیگر گلوکاروں کی آمد کے بعد ان کی مانگ میں کمی آتی چلی گئی اور وہ مایوس ہو کر کینیڈا چلے گئے۔ جہاں انھوں نے 1975 میں موسیقی کا ایک اسکول قائم کیا، 25 نومبر1983 کو گردے فیل ہونے کے باعث 51 سال کی عمر میں ان کا کینیڈا میں انتقال ہو گیا۔

Please follow and like us:

مزید پڑھیں

ایلس ویلز کی آج پاکستان آمد، 22 جنوری تک قیام کریں گی

امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز آج پاکستان آئیں گی، پاکستانی حکام سے باہمی امور …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Facebook
Facebook
Twitter
Visit Us
YouTube
YouTube