ترقی پذیر ممالک پر مالیاتی بوجھ کم کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم

ترقی پذیر ممالک پر مالیاتی بوجھ کم کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک مالیاتی لین دین کو قانونی دائرے میں لانا ضروری ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی احتساب کی تقریب سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی پزیر ممالک سے کھربوں روپے غیرقانونی طریقے سے منتقل ہوئے، جس کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو غیر مساویانہ معاہدوں پر نظرثانی کرنی چاہیئے جس سے ترقی پذیر ممالک پرمالیاتی بوجھ کم ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مختلف اقدامات کا آغاز کرنا چاہئے جن میں نیا عالمی ٹیکس تعاون اور انسداد منی لانڈرنگ پر مذاکرات جیسے اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے تمام غیرقانونی مالیاتی لین دین پر عالمی رابطے، قانون سازی اور ثالثی میکانزم کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کلیدی مقاصد کے حصول کیلئے تمام ہم خیال ممالک کے ساتھ مل جل کر کام کرے گا۔
وزیراعظم نے پینل کی تجاویز کی توثیق کی جن میں تمام مالی لین دین میں دیانتداری اور راست بازی کی عالمی اقدار کا اطلاق، پالیسی فریم کو مضبوط بنانے اور ان ناجائز مالی آمدن کے معاملات کو دیکھنے والے متعلقہ اداروں میں اصلاحات کرنا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر ہونیوالے مالی لین دین کو اقدار پر مبنی نظام کے تحت باضابطہ بنایا جانا چاہئے اور قومی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ایک مربوط اور یکساں طریقے سے عالمی مالیاتی نظام پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔
عمران خان نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کے چوری شدہ اثاثوں کی واپسی سے غربت کے خاتمہ، عدم مساوات میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے سدباب سمیت انسانی حقوق کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ چوری شدہ سترکھرب مالیاتی طور پر مستحکم ممالک میں رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رقوم کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں غربت، عدم مساوات، سیاسی عدم استحکام سمیت ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنی۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان سپر لیگ 6 کے باقی میچز کا شیڈول جاری کر دیا گیا

پاکستان سپر لیگ 6 کے باقی میچز کا شیڈول جاری کر دیا گیا

پاکستان سپر لیگ 6 کے باقی میچز کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ شیڈول …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons