تازہ ترین

پلے بیک سنگر اخلاق احمد کی آج 74ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

پلے بیک سنگر اخلاق احمد کے مداح آج ان کی 73ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اخلاق احمد کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔

پلے بیک سنگر اخلاق احمد 10 جنوری 1946ء کو بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز کراچی میں اداکار ندیم اور مسعود رانا کے ساتھ ایک سٹیج پرفارمنس سے کیا۔ اخلاق احمد نے 1972ء میں فلم ’پاکیزہ‘ سے پلے بیک سنگنگ کا آغاز کیا اور 1973ء میں فلم ’بادل اور بجلی‘ کے گیت ’بہکے قدم انجانی راہیں‘ سے ان کی مقبولیت کا آغاز ہوا۔

1974ء میں فلم ’چاہت‘ کیلئے گائے گئے گیت ’ساون آئے ساون جائے‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ بعد ازاں اخلاق احمد فلم ’’بندش‘‘ میں ’’سونا نہ چاندی نہ کوئی محل‘‘ جیسا گیت گا کر امر ہو گئے۔ اخلاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی گلوکاری کی اور اس طرح وہ ٹیلی وژن کے بھی مقبول گلوکار بن گئے۔

ان کے مقبول گیتوں میں فلم ’نہیں ابھی نہیں‘ کا گانا ‘ سماں وہ خواب کا سماں، فلم ’مہربانی‘ کا گانا کبھی خواہشوں نے لوٹا، کبھی زندگی نے مارا، فلم ’آئینہ‘ کا گانا حسین وادیوں سے یہ پوچھو سمیت کئیں گیت شامل ہیں۔

انہوں نے جو بھی گایا وہ امر ہو گیا۔ اخلاق احمد نے اپنی فنی زندگی میں باسٹھ فلموں میں کُل نوے گیت گائے۔ انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ نگار ایوارڈ حاصل کئے۔ اخلاق احمد 14 برس تک سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا رہنے کے بعد 4 اگست 1999ء کو خالقِ حقیقی سے جاملے، لیکن اپنے گیتوں کی وجہ سے وہ آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

match-officials

پاکستان جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز کیلئے میچ آفیشلز کا اعلان کردیا گیا

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین 2 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کیلئے میچ آفیشلز …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons