جنیوا میں شام کی دستوری کمیٹی کے گروپ کا چوتھا اجلاس

شام کی دستوری کمیٹی کے گروپ کا چوتھا اجلاس 30 نومبر سے 4 دسمبر تک جنیوا میں منعقد ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے امور شام گیر پیڈریسن نے 29 نومبر کو ایک پریس کانفرنس میں اس توقع کا اظہار کیا کہ تمام فریقین شامی مسئلے کے حل میں سیاسی تصفیہ کو فروغ دیں گے۔

پیڈریسن کے مطابق اگرچہ شام کے دستوری عمل سے متعلق بات چیت آسان نہیں ہو گی لیکن امید ہے کہ تمام جماعتیں اعتماد برقرار رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 10 سالہ محاز آرائی کے بعد فریقین کے مابین اعتماد کا فقدان ہے جسے ہمیں دور کرنا ہو گا۔ 

ہم جانتے ہیں کہ اس میں وقت لگے گا اور یہ ایک مشکل عمل ہے۔ پیڈریسن نے مزید کہا کہ موجودہ اجلاس کے دونوں شریک صدور نے اتفاق کیا ہے کہ شامی ریاست کی بنیادوں اور اصولوں پر بات چیت کی جائے گی اور آئندہ سال منعقد ہونے والے پانچویں اجلاس میں آئینی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

شام کی دستوری کمیٹی 150 شامی باشندوں پر مشتمل ہے، جن میں حکومتی ارکان، حزب اختلاف کے ممبران اور سول سوسائٹی کے ممبران کی الگ الگ ایک تہائی نمائندگی ہے۔ اس بنیاد پر حکومت، حزب اختلاف اور غیر سرکاری تنظیموں سے 15 نمائَندوں کا انتخاب کرتے ہوئے آئین سازی کا گروپ تشکیل دیا جاتا ہے۔

یہ گروپ آئین میں ترمیم یا مسودہ سازی کے مخصوص امور کا ذمہ دار ہے۔ اس گروپ کے قیام کو شام  میں قیام امن کے عمل میں نمایاں اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان کپ کرکٹ ٹورنامنٹ، مزید 3 میچ 24 جنوری کو کھیلے جائیں گے

پاکستان کپ کرکٹ ٹورنامنٹ، مزید 3 میچ 24 جنوری کو کھیلے جائیں گے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام جاری پاکستان کپ ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے مزید 3 …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons