امریکی کمپنی کا کورونا ویکسین کے فیز 3 کے کامیاب تجربہ کا دعویٰ

امریکا کی فارما کمپنی کی جانب سے کورونا ویکسین کے تیسرے فیز کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

امریکی حکومت نے شہریوں کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا کام دسمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی ہیلتھ سیکرٹری کا کہنا ہے کہ فارما کمپنی سے ہر ماہ 20 ملین خوراکیں ملیں گی اور سب سے پہلے نرسنگ ہوم اور معمر افراد کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی۔

کورونا وائرس دنیا بھر میں نہایت تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے لیکن اب اس وائرس کی ویکسین جلد عام شہریوں تک پہنچنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ چند روز قبل امریکی دوا ساز ادارے کے بعد روس نے بھی کورونا وائرس کی مؤثر ویکسین بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

امریکی اور جرمن کمپنیوں کی تیار کردہ کورونا وائرس کی ویکسین تیسرے مرحلے میں بھی کامیاب ثابت ہو گئی تھی۔ اس خبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نو منتخب صدر جو بائیڈن نے انسانیت کے لیے بڑی خبر قرار دیا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی اسے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارچ 2021 تک یہ ویکسین ان تمام شہریوں کو فراہم کی جا چکی ہو گی جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

دوسری جانب روس نے بھی اپنی بنائی کورونا ویکسین کے 90 فیصد سے زیادہ مؤثر ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ روسی وزارت صحت نے کہا کہ ان کی تیار کردہ ویکسین اسپوتنک فائیو زیادہ مؤثر ہے۔

کورونا ویکسین کی تیاری عالمی معشیت کے لیے بھی اچھی خبر ثابت ہوئی اور امریکی اور یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں کاروبار میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔ اسٹاک مارکیٹیوں میں انڈیکس کئی پوائنٹس بڑھ  گیا جب کہ ایشیائی مارکیٹوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل بھی مہنگا ہو گیا ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

ایران کو بہترین سفارت کاری کے ذریعے اپنا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھنا چاہیئے، شفقت منیر

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons