سوات کے زمرد تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کی زینت، سی آر آئی اردو کا تبصرہ

چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو دنیا کے تمام ممالک اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے بڑے کاروباری اداروں، انفرادی کاروبار کرنے والوں اور سنجیدہ خریداروں کو دنیا کی سب سے بڑی منڈی میں مسابقتی ماحول میں ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

پہلی چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کے انعقاد سے اب تک چین کی حکومت نے اس پلیٹ فارم کو آزادانہ تجارت اور معاشی عالمگیریت کے استحکام اور فروغ کے لئے بھرپور انداز میں فعال بنایا ہے۔ کووڈ-19 کی وبا کے تناظر میں موجودہ ایکسپو کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس ایکسپو کے کامیاب انعقاد سے عالمی معیشت کی بحالی کے حوالے سے کاروباری حلقوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک کی مصنوعات کو چین اور دنیا بھر میں متعارف کروانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ 5 تا 10 دس نومبر تک منعقد ہونے والے اس نمائش میں پاکستانی علاقے سوات کے زمرد نمائش کے لئے پیش کئے جائیں گے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں پچاس کی دہائی میں دریافت ہونے والی قیمتی پتھر زمرد کی کانوں کا شمار دنیا کی بڑی کانوں میں ہوتا ہے۔ بین الاقوامی معیار کے قیمتی پتھروں کی یہ کانیں سوات کے صدر مقام مینگورہ کے مشہور اور سیاحتی مقام فضا گٹ کے قریب واقع ہیں۔ تقریباً چھ کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ان کانوں کی دریافت سابق حاکم سوات کے دور میں سن 1958 میں ہوئی تھی۔ یہ معدنیات فضا گٹ کے علاوہ سوات کے ایک اور علاقے شموزئی اور ضلع شانگلہ میں بھی پائی جاتی ہیں تاہم مینگورہ میں بھی زمرد کی کچھ کانیں موجود ہیں۔

تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کے دوران سوات کے زمرد نمائش کے لئے پیش کرنے کا اعزاز پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عقیل کو حاصل ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر عقیل اپنی حس جمال کی وجہ سے ان پتھروں کو اس طرح تراشتے ہیں کہ یہ زندگی کے قریب معلوم ہونے لگتے ہیں۔ چائنا میڈیا گروپ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ ایکسپو میں سوات کے زمرد ان ہی کی کمپنی ونزا نمائش کے لئے پیش کررہی ہے۔ سوات کے زمرد کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات کے زمرد قدیم دریافت شدہ زمردوں میں سے ایک ہیں ، اور ان کی تاریخ قدیم شاہراہ ریشم سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ اپنے منفرد رنگ اور خوبیوں کی وجہ سے لوگوں میں بہت مقبول ہے۔ یہ اپنی خوبیوں کی وجہ سے بہت زیادہ بیش قیمتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ جواہرات کی دنیا کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔

واضح رہے کہ زمرد سبز رنگ کا قیمتی پتھر ہے جو عام طور پر زیورات میں استعمال ہوتا ہے۔ قیمتی پتھروں کے ماہرین کے مطابق زیادہ تر زمرد کے پتھر ایک سے پانچ قیراط کے ہوتے ہیں جس کی قیمت مارکیٹ میں پچاس ہزار روپے سے لے کر لاکھوں روپے تک ہوتی ہے تاہم قیمت کا دارومدار پتھر کی کٹائی اور کوالٹی پر ہوتا ہے۔

تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو نہ صرف دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ معیشتوں بلکہ عالمی تجارت کے لئے بھی امید کی ایک کرن ہے۔ یہ معاشی تعاون اور تجارت کو مستحکم کرنے اور عالمی تجارت اور عالمی معاشی نمو کو فروغ دینے کے لئے پوری دنیا کے ممالک اور خطوں کو سہولت فراہم کرتی ہے تاکہ عالمی معیشت کو مزید کھلا بنایا جاسکے۔ چینی حکومت پوری دنیا میں سرکاری عہدیداروں ، کاروباری برادریوں ، نمائش کنندگان اور پیشہ ور خریداروں کو اس میں حصہ لینے اور چینی منڈی کو تلاش کرنے کے لئے ان کا خیرمقدم کرتی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ٹھوس تعاون کو گہرائی تک لے جایا جا رہا ہے

شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائَے اعظم کا انیسواں اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ اجلاس …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons