پشاور میں مدرسے میں دھماکا، 7 افراد جاں بحق، 70 زخمی

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مدرسے میں دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں7 افراد جاں بحق جبکہ 70 زخمی ہوگئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

سینئرسپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن منصور امان نے بتایا کہ دھماکا پشاور کی دیر کالونی میں واقع ایک مدرسے میں ہوا۔ دھماکے کے بعد پولیس، ریسکیو حکام اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

علاوہ ازیں ایس ایس پی آپریشنز منصور امان نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک 7 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 35 زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ مختلف ہسپتالوں میں منتقل ہونے کی وجہ سے تعداد کو مزید دیکھ رہے ہیں۔

منصور امان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی) دھماکا تھا جس میں 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ادھر ایک اور سینئر پولیس عہدیدار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مدرسے میں دھماکا اس وقت ہوا جب قرآن پاک کی کلاس جاری تھی اور کوئی فرد مدرسے میں بیگ رکھ کر چلا گیا۔ ایک اور سینئر پولیس افسر محمد علی گنڈاپور نے ان معلومات کی تصدیق کی اور کہا کہ زخمی ہونے والوں میں 2 استاد بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ دیر کالونی میں دھماکے کے بعد 7 لاشوں اور 70 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہیں تاہم زیادہ تر زخمی جھلسے ہوئے ہیں جبکہ ہسپتال ڈائریکٹر محمد طارق برکی خود ایمرجنسی ٹیم کے ہمراہ ایمرجنسی میں موجود ہیں۔

واقعے کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت توجہ زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے پر ہے تاکہ وہ جلد از جلد ٹھیک ہوسکیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھی خیبرپختونخوا میں دھماکے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ 29 ستمبر کو خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹے کے اندر 2 دھماکے ہوئے تھے جس میں مجموعی طور پر 9 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

پہلا دھماکا ضلع نوشہرہ کے علاقے اکبرپورہ میں دریائے کابل کے ساتھ موجود مارکیٹ میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے تھے۔ ڈی پی او نجم الحسن نے بتایا تھا کہ کچھ لوگ دریائے کابل کے کنارے سے پتھروں سے کچھ اسکریپ کا سامان نکال رہے تھے، جس میں کچھ دھماکا خیز مواد بھی تھا جو اس وقت پھٹ گیا جب وہ اس کا وزن کر رہے تھے۔

اسی روز دوسرا دھماکا ضلع مردان میں کاروباری مرکز ‘جج بازار’ میں سائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے سے ہوا تھا، جس میں دو کمسن بیٹیوں اور باپ سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

یہ خبر پڑھیئے

شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ٹھوس تعاون کو گہرائی تک لے جایا جا رہا ہے

شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائَے اعظم کا انیسواں اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ اجلاس …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons