موجودہ پارلیمانی نظام میں عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری

عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں، قاسم خان سوری کی دوستی ایف ایم98 سے خصوصی گفتگو

موجودہ پارلیمانی نظام میں عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی سیاست کا تسلسل جاری ہے۔ ایف ایم 98 دوستی چینل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یورپ سمیت دیگر تمام ایسے خطوں اور ممالک نے ترقی کی ہے جہاں جمہوریت کا تسلسل برقرار رہا۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ جمہوریت ایک بہترین نظام ہے اور وفاقی حکومت پاکستان میں موجودہ پارلیمانی نظام کے تحت عوام کے تمام بنیادی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کیلئے قانون سازی کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 44 فیصد جبکہ آبادی کے حوالے سے 6 فیصد سے کم ہے۔ ایف ایم 98 دوستی چینل کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اس صوبہ کو قدرت نے ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے، جس میں 600 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، گوادر کی بندرگاہ، سونے اور چاندی سمیت دیگر معدنیات کے ذخائر شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں کسی قسم کے مادی وسائل موجود نہیں ہیں، لیکن انہوں نے علم کی طاقت سے نمایاں ترقی کی ہے۔ انہوں نے اس امر کو پاکستان کیلئے ضروری دیا کہ تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے، کیونکہ علم ہوگا تو زمین میں موجود قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ قاسم خان سوری نے کہا کہ پاکستان میں بیشمار وسائل کی موجودگی کے باوجود یہاں اتنا علم نہیں ہے کہ ان معدنیات کو نکال کر ان کے پروسیسنگ پلانٹ لگائے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے علاقے سینڈک میں سونے کے ذخائر موجود ہیں جس کیلئے چین کے ساتھ معاہدے طے کیا جا چکا ہے، لیکن پاکستان میں اس سونے کی پروسیسنگ اب تک ممکن نہیں بنائی جاسکی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ علم کا حصول انتہائی ضروری ہے۔

ڈپٹی سپیکر نے مزید کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ یہاں تعلیم اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے قانون سازی کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ وہاں کے عوام کا معیار زندگی بلند کیا جاسکے۔

سی پیک پورے خطے میں غربت کے خاتمے کیلئے ایک بہت بڑا منصوبہ ہے، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ سی پیک ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایف ایم 98 دوستی چینل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی بدولت شاہراہ ریشم سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی ممکن بنائی جارہی ہے، جبکہ گوادر کی بندرگاہ اس کا اہم جزو ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ پورے خطے میں غربت کے خاتمے کیلئے سی پیک کا منصوبہ انتہائی اہم اور بڑا ہے جس میں گوادر کا علاقہ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی مقامی آبادی کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی، مچھیروں کی آبادیوں کے تحفظ اور روزگار کے دیگر ذرائع میں بہتری کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

قاسم خان سوری کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی پوری کوشش ہے کہ بلوچستان کا وہ تمام علاقہ جو سی پیک میں شامل ہے، وہاں کی مقامی آبادی کو سب سے زیادہ فوائد پہنچائے جاسکیں اور اس سلسلے میں حکومتی وفد گوادر کا خصوصی دورہ بھی کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں بین الاقوامی ہوائی اڈے اور جدید اسپتالوں کی تعمیر جاری ہے اور علاقے میں ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے۔

ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ خوش قسمتی سے چین ہمارا ہمسایہ اور آزمودہ دوست ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ مل کر پاکستان بھی ترقی کی منازل طے کرے گا۔ کیونکہ جس طرح چین صنعتی انقلاب لیکر آیا ہے اور اس نے اپنے عوام کو غربت کی حالت سے نجات دلائی ہے، اسی طرح پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں بھی صنعتی زون قائم کئے جا رہے ہیں، سڑکیں بنائی جارہی ہیں اور آنے والے وقتوں میں کوشش کی جائے گی کہ سی پیک سے بلوچستان کے لوگ بھرپور استفادہ کرسکیں۔

چینی صدر مملکت شی چن پھنگ جیسے نظریہ کے تحت ہی ترقی کا حصول ممکن ہے، قاسم خان سوری

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کا کہنا ہے کہ چین نے ثابت کیا ہے کہ اگر کسی قوم میں جنون ہو اور وہ کام کرنا چاہتی ہے اور انہیں صدر شی چن پھنگ جیسی بے داغ قیادت میسر ہو جو اپنی قوم کیلئے سوچتا ہو، تو ملک ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے۔ ایف ایم 98 دوستی چینل سے خصوصی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ چین نے مغربی دنیا کے اس نظریہ کو غلط ثابت کردیا ہے کہ مشرق میں ترقی نہیں ہوسکتی۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ چین کی ہمسائیگی پاکستان کیلئے باعث فخر ہے، جو ایسا دوست ہے جس نے ہر مشکل میں ہماری مدد کی ہے۔

انہوں نے کہ ہمیں یورپ یا امریکہ کے بجائے چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ آبادی زیادہ ہونے کے باوجود کس طرح اپنے عوام کو تیزی کے ساتھ غربت کی حالت سے نجات دلائی۔ قاسم خان سوری نے کہا کہ دنیا کے معروف اداروں نے چین میں اپنی فیکٹریاں قائم کی ہیں جہاں سے مختلف مصنوعات دیگر ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت نے جس طرح اپنے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کئے اور اصولوں کے تحت انہیں بنیادی سہولیات فراہم کیں، یہ دیگر ممالک کیلئے ایک مثال ہے، جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ سمیت دیگر مختلف فورمز پر چین اور اسکی ترقی کی بھرپور تعریف کی ہے۔

پاکستان ہانگ کانگ اور تائیوان میں بیرونی قوتوں کی جانب سے شدت پسندی کو ہوا دینے کی کوششوں کی نفی کرتا ہے، قاسم خان سوری

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ ہانگ کانگ اور تائیوان چین کے اندرونی معاملات ہیں۔ ایف ایم 98 دوستی چینل کو دیئے گئے خصوصی میں انہوں نے کہا کہ جس طرح چین نے مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر اہم معاملات پر ہمیشہ پاکستان کی کھل کر حمایت کی ہے، اسی طرح پاکستان بھی ایک چین پالیسی کی تائید کرتے ہوئے ہانگ کانگ اور تائیوان سمیت دیگر اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی حمایت اور ان علاقوں میں شدت پسندی کی ہمیشہ مذمت کرتا ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ہانگ کانگ میں رونماء ہونیوالے حالیہ واقعات اور مغربی ممالک کی جانب سے ان معاملات کو ہوا دینے کی کوششوں کو پاکستان کبھی پسند نہیں کرے گا، کیونکہ ہم متحدہ چین کے حامی ہیں۔

ایف ایم 98 دوستی چینل دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں معاون ثابت ہوگا، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کیلئے اپنی صلاحیتوں میں بہتری لانا ضروری ہے۔ ایف ایم 98 دوستی چینل کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کے لوگ ہنرمند ہیں جن سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ قاسم خان سوری نے دوستی چینل کو دونوں ممالک کے عوام کو باہم ملانے، رسم و رواج کی آگہی اور ایکدوسرے کی ثقافت سے روشناس کروانے کیلئے خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والا دور پاکستان اور چین کے عوام کو مزید قریب لے کر آئے گا۔

یہ خبر پڑھیئے

ایران کو بہترین سفارت کاری کے ذریعے اپنا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھنا چاہیئے، شفقت منیر

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons