مقبوضہ کشمیر میں 3 نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل، پاکستان کا منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ

مقبوضہ کشمیر میں 3 نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل، پاکستان کا منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ

پاکستان نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں دوماہ قبل تین بے گناہ کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی قابض افواج نے 27 سالہ امتیاز احمد اور سولہ سالہ ابرار احمد کو ضلع شوپیاں میں رواں برس 18 جولائی کو نام نہاد محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔

ترجمان نے کہا کہ بھارتی قابض فوج نے خود قتل کے دو ماہ بعد خود تسلیم کیا کہ تین بے گناہ کشمیری مزدوروں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ بھارت قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ 18 جولائی 2020ء کے واقعہ اور دیگر اقدامات کا فوری نوٹس لیا جائے جو بی جے پی کے راشٹریہ رائفلز کے نسل کشی کو ظاہر کرتے ہیں اور کشمیری عوام کے خلاف جاری جارحیت پر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت گزشتہ سال پانچ اگست کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد نہتے کشمیریوں کے خلاف اپنے مظالم کو نئی سطح پر لے گیا۔ تین سو زائد کشمیریوں کو جن میں زیادہ ترنوجوان شامل ہیں بھارتی قابض افواج نے گزشتہ ایک سال کے دوران جعلی مقابلوں اور مقبوضہ کشمیر میں تلاشی ومحاصرے کی کارروائیوں کے دوران شہید کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے خلاف بھارت کے گھناؤ نے جرائم سے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سمیت عالمی برادری کو مسلسل خبردار کرتا رہا ہے۔
زاہد حفیظ نے کہا کہ بھارتیہ جنتہ پارٹی کو اس بات کا احساس ہونا چاہیئے کہ وہ کشمیریوں کے خلاف جاری جرائم کی براہ راست ذمہ دار ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

اسرائیل غیر قانونی قید خانے بند اور ان میں موجود فلسطینیوں کو رہا کرے، اقوام متحدہ

مقبوضہ فلسطین میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے رپورٹر مائیکل لنک نے مطالبہ کیا …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons