نوول کورونا وائرس کئی دہائیوں سے چمگادڑوں میں موجود تھا، نیچر مائیکر بیالوجی میگزین

کرونا وائرس گزشتہ کئی دہائیوں سے چمگاڈروں کے جسم میں پرورش پا رہا ہے، نیچر مائیکرو بیالوجی میگزین

معروف سائنسی تحقیقی مجلے”نیچر مائیکرو بیالوجی” نے نوول کورونا وائرس کے ممکنہ ماخذ کے حوالے سے ایک بین الاقوامی تحقیق کے نتائج اپنی ویب سائٹ پر جاری کئے۔

blank

ان نتائج کے مطابق نمونیا کی موجودہ وبا کا باعث بننے والا سارس کووڈ-۲ چالیس سے ستر برس پرانا ہے۔ یہ وائرس گزشتہ کئی دہائیوں سے چمگاڈروں کے جسم میں پرورش پا رہا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں حالیہ وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے وائرس کے ماخذ کا پتہ چلانا ناگزیر ہے۔

بی بی سی نےاس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تحقیق کے نتائج نے وائرس کےماخذ کے حوالے سے ان تمام سازشی نطریات کو رد کر دیا ہے جن کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ وائرس مصنوعی طور پر لیبارٹری میں تیار ہوا ہے۔

یہ بھی چیک کریں

جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نئے منتخب صدر Volkan Bozkir پاکستان کے دو روزہ …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons