عہد ساز شاعر قتیل شفائی کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے

عہد ساز شاعر قتیل شفائی کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس بیت گئے

پاکستانی فلمی صنعت کے عہد ساز نغمہ نگار اور بے مثال شاعر قتیل شفائی کو دنیا سے رخصت ہوئے 20 برس بیت گئے مگر ان کی سدا بہار شاعری آج بھی دلوں کے ساز چھیڑ دیتی ہے۔

ان کا اصل نام اورنگزیب خان تھا اور وہ 24 دسمبر 1919ء کو صوبہ خیبرپختونخواہ ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ قیامِ پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں احمد ندیم قاسمی کی قربت نے ان کی علمی اور ادبی آبیاری کی۔ منفرد خیالات کو سادہ اسلوب میں ڈھال کر شعر کہنے کے فن میں مہارت رکھنے والے عہد ساز نغمہ نگار اور عظیم شاعر نے قتیل شفائی کے نام سے شہرت پائی۔

1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم’’تیری یاد‘‘کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا، ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی، گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر، مطربہ، چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔ ان کی آپ بیتی ان کی وفات کے بعد ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔

قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر تھے۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا اصل راز ہے۔ انہیں صف اول کے ترقی پسند شعراء میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں انہیں 1994ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، آدم جی ادبی ایوارڈ، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈز سے نوازا گیا، اس کے علاوہ بھارت کی مگھد یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے۔ بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔

علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لئے ان پر مقالہ جات بھی تحریر کئے ہیں۔ 11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

یہ بھی چیک کریں

جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نئے منتخب صدر Volkan Bozkir پاکستان کے دو روزہ …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons