ہانگ کانگ کا قومی سلامتی قانون چین کی قومی سلامتی کے تحفظ میں موجود سقم کو دور کرتا ہے۔عالمی شخصیات

قومی سلامتی کا قانون ہانگ کانگ کے طویل مدتی استحکام کی ضمانت فراہم کرے گا،عالمی ماہرین

ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کے بارے میں حالیہ دنوں متعدد ممالک کی شخصیات نے یہ خیال ظاہر کیا  ہے کہ اس قانون  نے ہانگ کانگ کی قومی سلامتی قائم رکھنے میں موجو د قانونی خامی کو  دور  کیا ہے اور یہ ہانگ کانگ کے طویل مدتی استحکام اور خوشحالی کی ٹھوس ضمانت فراہم کرے گا۔

پاکستان کے  ایوان بالا کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہانگ کانگ چین کا اٹوٹ حصہ ہے۔ ہانگ کانگ کے معاملات چین کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے تعلق رکھتے ہیں ، تاہم ، کچھ مغربی ممالک نے اپنے سیاسی مقصد  کے حصول کے لیے ہانگ کانگ کے انتشار پسند عناصر کے  پرتشدد مظاہروں کی ناصرف بھرپور حوصلہ افزائی کی بلکہ  مالی اعانت بھی کی ہے۔ قومی سلامتی کو برقرار رکھنے میں ہانگ کانگ کے قانون میں موجود سقم کے باعث  ان غیر قانونی سرگرمیوں  کو  روکنے میں ناکامی ہوئی  لیکن اس قانون کے نفاذ نے ان تمام سرگرمیوں کو ناممکن بنا دیا ہے ۔

چینی امور کے  فرانسیسی ماہر  پیٹر پیکارڈ نے کہا کہ ہمیں چین کو غلط سمجھنا چھوڑنا چاہیے ، اور  اس معاملے کی اصل حقیقت دیکھنی چاہئے۔ چین نے تشدد کی سزا دینے کے لیے قانون سازی کی ہے۔  ہانگ کانگ ہو ، یورپ ہو  یا کوئی بھی اور ملک ہو  ، معاشرتی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے والی کاروائی معاشرے میں  انتہا پسندی کا سبب ہے۔جس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

یہ خبر پڑھیئے

پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے، وزیراعظم

پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اُن کا مقصد اور نظریہ پاکستان کو فلاحی …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons