لاک ڈاؤن کے باعث طلبہ نفیساتی مسائل کو شکار ہو سکتے ہیں، ماہرین نفسیات

لاک ڈاؤن کے باعث طلبہ نفیساتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، ماہرین نفسیات

ماہرین نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے ختم ہوتے ہی نفسیاتی مسائل کے شکار افراد کی تعداد بڑھ جائے گی، کیوں کہ ممکنہ طور پر اس دوران متعدد افراد ذہنی مسائل کا شکار بن رہے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے دوران بڑی عمر کے افراد سے زیادہ سکول ، کالج اور یونیورسٹی جانے والے طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں جس کی اہم وجہ اپنے ساتھیوں سے سماجی دوری بھی ہے۔ ماہر نفیسات ساہرہ خان نے ایف ایم 98 دوستی چینل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں والدین پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو بچوں کیلئے ایک ٹائم ٹیبل بنانا چاہیئے اور ا س کے علاوہ وہ بچوں کو مختلف تخلیقی سرگرمیوں جیسے مصوری ، کتابیں پڑھنے اور لکھنے کی طرف راغب کر نا چاہیئے۔

ماہر نفسیات کا مزید کہنا تھا کہ آن لائن کلاسز کے باعث یونیورسٹی جانے والے طلبہ پر بہت دباؤ ہے تاہم انہیں سونے اور جاگنے کا ٹائم ٹیبل بنانا چاہیئے اور پورا دن ایک ہی کمرے میں گزارنے کے بجائے ایس و پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے پارکس وغیرہ میں چہل قدمی کرنی چاہیئے۔

دوسری جانب کرونا وائرس سے متعلق بچوں کو معلومات دینا ضروری ہے تاہم اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ زیادہ معلومات سے وہ نفسیاتی دباؤ اور ڈر کا شکار نہ ہوں۔

یہ بھی چیک کریں

پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، وزیراعظم

پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، وزیراعظم

پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے تاہم ہم …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons