برطانیہ کا ہانگ کانگ سے متعلق قانون پر تبصرہ " ایک چین دو نظام" کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے، چین

برطانیہ کا ہانگ کانگ سے متعلق قانون پر تبصرہ ” ایک چین دو نظام” کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے، چین

تین جون کو بیجنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ہانگ کانگ سے متعلق قومی سلامتی قانون پر کیے جانے والے برطانیہ کے بے بنیاد تبصرے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے کہا کہ چین نے برطانیہ کے سامنے اپنے موقف کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے اس تبصرے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ سرد جنگ اور نوآبادیاتی ذہنیت کو ترک کرنا چاہیے، ہانگ کانگ چین میں واپس آگیا ہے اور چین کا ایک خصوصی انتظامی علاقہ ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس کا احترام کرنا چاہیے ۔

چاؤ لی جیان نے واضح الفاظ میں کہا کہ جب قومی سلامتی کی ضمانت دی جا ئے گی تب ہی “ایک ملک دو نظام” کی پالیسی اور ہانگ کانگ کی خوشحالی و استحکام کی ضمانت دی جا سکے گی ۔ اس قانون سازی کا ہدف قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے والے چند افعال اور سرگرمیاں ہیں۔ اس سے ہانگ کانگ کی اعلی خوداختیاری ، ہانگ کانگ کے باشندوں کے حقوق اور آزادی اور ہانگ کانگ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے جائز حقوق و مفادات پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ یہ ” ایک ملک دو نظام” کی پالیسی پر عملدرآمد اور ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا۔

یہ بھی چیک کریں

پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، وزیراعظم

پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، وزیراعظم

پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے تاہم ہم …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons