پی آئی اے کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گرکرتباہ

کراچی: پی آئی اے طیارہ حادثے کے بعد امدادی کارروائی جاری

کراچی میں ہوائی اڈے کے قریب آج سہ پہر لاہور سے کراچی جانے والی پرواز پی کے 8303 کی جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔طیارے پر اکانوے مسافرا ور عملے آٹھ ارکان شامل تھے۔

امدادی کارروائی پاک فوج، رینجرز اور سول انتظامیہ مشترکہ طور پر کررہی ہے جبکہ پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز پر بھی جائے حادثہ پر موجود ہیں۔ فضائیہ بھی علاقے میں امدادی کارروائی میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق لینڈنگ سے قبل طیارے میں کوئی فنی خرابی ہوئی جو حادثے کی وجہ بنی تاہم اصل وجہ تفصیلی تحقیقات کے مطابق پتہ چلے گی۔بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود بھی جو اس بدقسمت مسافر طیارے میں موجود تھے ، معجزانہ طور پر بچ گئے اور نجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ادھر پی آئی اے نے اپنا ہنگامی کال سینٹر فعال بنا لیا ہے جبکہ تمام آپریشنل عملے کو ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ہے۔ان نمبرز پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ 02199043833, 02199242284, 02199043766

سندھ حکومت نے حادثے کو متاثرین کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے کراچی کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔

فوج کی تلاش اور امدادی ٹیم خصوصی آلات اور ریسکیو ماہرین کے ساتھ راولپنڈی سے خصوصی سی ون تھرٹی پرواز کے ذریعے کراچی روانہ کردی گئی ہے تاکہ طیارہ حادثے کی جگہ پر ریلیف اور امدادی کاموں میں تیزی لائی جائے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جائے وقوعہ پر موجود فائر بریگیڈ کی دس گاڑیوں نے آگ بجھائی۔فوجی ایمبولینسز زخمیوں کو بچانے اور ضروری طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ خبر پڑھیئے

امریکی سینیٹرز کا بھارت کو بدترین ممالک میں شامل کرنے کا مطالبہ

امریکی سینیٹرز کا بھارت کو بدترین ممالک میں شامل کرنے کا مطالبہ

امریکہ کے 14 سینیٹرز نے وزیر خارجہ مائیک پومپو کے نام ارسال کردہ خط میں …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons