تازہ ترین
ایلس ویلز کے چین پاکستان تعلقات اور سی پیک سے متعلق بیانات گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں، چینی سفارتخانہ

ایلس ویلز کے چین پاکستان تعلقات اور سی پیک سے متعلق بیانات گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں، چینی سفارتخانہ

پاکستان میں قائم چینی سفارتخانے نے امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کے چین اور پاکستان کے مابین دو طرف تعلقات اور سی پیک  سے متعلق دیئے گئے غیرذمہ دارنہ  بیانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

چینی سفارتخانے کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کو 69 سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران دونوں ممالک نے سدا بہار دوستی کو مستحکم کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے کے امن و استحکام اور خوشحالی کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ وبا کے خلاف جدوجہد میں چین اور پاکستان شانہ بشانہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ اس ضمن میں چین کی جانب سے پاکستان کو 55 ملین امریکی ڈالر کے عطیات دیئے گئے ہیں۔ چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستان کو اپنا برابر شراکت دار دوست ملک تصور کرتا ہے جبکہ چین نے کبھی بھی پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ نہیں کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کے اپنے طرز کے ترقیاتی ماڈل کی حمایت کی ہے جبکہ اس ضمن میں چین نے کبھی بھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین علاقائی امور میں پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کی تائید کرتا ہے اور چین نے کبھی پاکستان پر دباؤ نہیں ڈالا۔

بیان کے متن میں سی پیک کے بارے میں کہا گہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری دونوں ممالک کی حکومتوں کے مابین ایک اہم منصوبہ ہے جس کے تحت چین کی جانب سے پاکستان میں 25 ارب امریکی ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی ہے جس سے ملک بھر میں 75 ہزار نئے ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چین علاقائی امور میں پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کی تائید کرتا ہے اور چین نے کبھی پاکستان پر دباؤ نہیں ڈالا۔ بیان کے متن میں کہا گیا ہے کہ نوول کرونا وائرس نمونیا کی وبا کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے اختیار کئے گئے سخت حفاظتی اقدامات کی بدولت سی پیک کے جاری منصوبوں میں کوئی بھی شخص اس مہلک وباء متاثر نہیں ہوا-

بیان میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ملک بھر میں جہاں مقامی سطح پر نئی ملازمتوں کے مواقعوں میسر آئے وہیں مذکورہ  منصوبوں نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری لانے کے لیئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز نے اپنے حالیہ بیان میں سی پیک کے منصوبوں پر ناصرف بے بنیاد تنقید کی تھی بلکہ چین اور پاکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہچانے کی بھی کوشش کی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت دونوں ممالک کے مابین تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیان کے متن میں مزید کہا گیا کہ چین اور پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیئے مل کر کام کر رہے ہیں جبکہ چین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو امداد بھی فراہم کی ہے۔

بیان میں واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چین بین الاقوامی فنانیشل ٹاسک فورس کی جانب سے سیاسی حربوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بیان میں اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ امریکہ سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کر دے گا اور مناسب انداز میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے اپنے حالیہ بیان میں سی پیک کے منصوبوں پر ناصرف بے بنیاد تنقید کی تھی بلکہ چین اور پاکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہچانے کی بھی کوشش کی تھی ۔

یہ بھی چیک کریں

چینی صدرکی جرمن چانسلر سے ٹیلی فونک بات چیت

چینی صدرکی جرمن چانسلر سے ٹیلی فونک بات چیت

چینی صدر شی چن پھنگ نے تین جون کی شام جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons