سنگاپور کے وزیراعظم لی شیئیگ لونگ نےحالیہ دنوں نوول کرونا وائرس کی وباکے حوالے سے اپنے ٹیلی وژن خطاب میں امید ظاہر کی کہ عوام ذہنی و نفسیاتی دباو کے بغیر روزمرہ معمولات زندگی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقتنوول کروناوائرس کے باعث شرح امواتفی الحالاتنی بلند نہیں ہے۔تاہم اگر تصدیق شدہ کیسزکی تعداد میںاضافہ ہوتا رہے اور تمام مشتبہ مریضوں کو علاج یا قرنطین کے لیے ہسپتالوں میں داخل کر لیا جائے ، تو سنگاپور کے ہسپتال اتنی بڑی تعداد سے نہیں نپٹ سکیں گے۔اس لیے حکومت اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ ہلکی یا معمولی علامات والے افراد اپنے ڈاکٹر سے طبی مشورہکریںاور گھر وں میںاپنیصحت کا خیال رکھیں۔ لی شیئیگ لونگ نے کہا کہ خوف ، وائرس سے زیادہ مہلک ہے ۔انٹرنیٹپرافواہوں کوپھیلانا ،ضرورت سے زیادہ ماسک یا خوراک کوجمعکرنا یا کچھ خاص افراد کو اس وبا کا ذمہ دار ٹھہرانا ،یہ وہ عمل ہیں کہ جو صورتِ حال کو مزید خراب کرتے ہیں ۔ اس وقت ہمیںہمتکے ساتھاسمشکل دور سےگزرنا ہو گا۔ تیرہ فروری تک سنگاپور میں نوول کرونا وائرس سے متاثرہاٹھاون کیسز کی تصدیق ہوئی جن میں ساٹھ فیصد اس وائرس سے اپنے ہی ملک میں متاثر ہوئےہیں ۔

کرونا وائرس کے باعث شرح اموات فی الحال اتنی زیادہ نہیں ہے، وزیراعظم سنگاپور

سنگاپور کے وزیراعظم لی شیئیگ لونگ نے حالیہ دنوں نوول کرونا وائرس کی وباء کے حوالے سے اپنے ٹیلی وژن خطاب میں امید ظاہر کی کہ عوام ذہنی و نفسیاتی دباؤ کے بغیر روز مرہ معمولات زندگی جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت نوول کرونا وائرس کے باعث شرح اموات فی الحال اتنی بلند نہیں ہے۔ تاہم اگر تصدیق شدہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے اور تمام مشتبہ مریضوں کو علاج یا قرنطین کے لئے ہسپتالوں میں داخل کر لیا جائے، تو سنگاپور کے ہسپتال اتنی بڑی تعداد سے نہیں نپٹ سکیں گے۔ اس لئے حکومت اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ ہلکی یا معمولی علامات والے افراد اپنے ڈاکٹر سے طبی مشورہ کریں اور گھروں میں اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

لی شیئیگ لونگ نے کہا کہ خوف، وائرس سے زیادہ مہلک ہے۔ انٹرنیٹ پر افواہوں کو پھیلانا، ضرورت سے زیادہ ماسک یا خوراک کو جمع کرنا یا کچھ خاص افراد کو اس وباء کا ذمہ دار ٹھہرانا، یہ وہ عمل ہیں کہ جو صورتِ حال کو مزید خراب کرتے ہیں۔ اس وقت ہمیں ہمت کے ساتھ اس مشکل دور سے گزرنا ہو گا۔

تیرہ فروری تک سنگاپور میں نوول کرونا وائرس سے متاثرہ اٹھاون کیسز کی تصدیق ہوئی جن میں ساٹھ فیصد اس وائرس سے اپنے ہی ملک میں متاثر ہوئےہیں۔

یہ بھی چیک کریں

سنکیانگ: زندگی سے پیار کرنے والی لڑکی گلزار

سنکیانگ: زندگی سے پیار کرنے والی لڑکی گلزار

سنکیانگ کی ایک لڑکی گلزار اپنے والدین کے ساتھ خوشی و خرم رہتی ہے ۔ان …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons