فلسطینی صدر نے امریکہ کا امن منصوبہ مسترد کر دیا

فلسطینی صدر نے امریکہ کا امن منصوبہ مسترد کر دیا

فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطی اور مسلۂ فلسطین کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں امریکہ کی جانب سے پیش کردہ “مشرق وسطی میں قیام امن کے نئے منصوبے” کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا تاہم محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے کا ارادہ اظہار کیا۔

فلسطینی صدر نے اس منصوبے کو “اسرائیل-امریکہ تجاویز “قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل اور امریکہ کا بنایا ہوا منصوبہ ہے۔

اس منصوبے میں فلسطینی عوام کی خودمختاری اور آزادی کے حقوق کو مسترد کر دیا گیا ہے جب کہ یہودی بستیوں، فلسطینیوں کی زمین کو ضبط کرنے اور سرزمینِ فلسطین پر قبضہ کرنے کی غیرقانونی سرگرمیوں کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اس منصوبے میں مشرقی یروشلم پر فلسطین کی اختیارات کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

محمود عباس کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل کے اندر امن کے حامی شراکت دار موجود ہیں، تو وہ فوری طور پر امن مذاکرات کر نے کے لیے تیار ہیں ۔

یاد رہے کہ اٹھائیس جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی میں قیام امن کا نیا منصوبہ جاری کیا جس کے بعد سے فلسطین اور اسرائیل کے علاقے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ خبر پڑھیئے

امریکی سینیٹرز کا بھارت کو بدترین ممالک میں شامل کرنے کا مطالبہ

امریکی سینیٹرز کا بھارت کو بدترین ممالک میں شامل کرنے کا مطالبہ

امریکہ کے 14 سینیٹرز نے وزیر خارجہ مائیک پومپو کے نام ارسال کردہ خط میں …

اپنا تبصرہ بھیجیں

Show Buttons
Hide Buttons