ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل کے ارکان کی ہانگ کانگ سے متعلق امریکی ایکٹ کی مذمت

ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل

اٹھائیس نومبر کو ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی قانون ساز کونسل کے متعدد ارکان نے نام نہاد “ہانگ کانگ ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی ایکٹ” پر دستخط کرکے باقاعدہ قانونی شکل دینے پر امریکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ناصرف حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے بلکہ ہانگ کانگ کے امور اور چین کے داخلی امور میں شدید مداخلت کی گئی ہے۔

اس ایکٹ پر ہانگ کانگ کے عوام کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو امریکہ مسلسل نظرانداز کرتا رہا اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے کام پر اڑا رہا جو کہ کسی پر غلبہ پانے کا عمل ہے۔

ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی قانون ساز کونسل کے ممبر لیاؤ چھانگ جیانگ نے کہا کہ مذکورہ نام نہاد ایکٹ کی تیاری ڈھٹائی پر مبنی جانب دارانہ رویے سے بھرا ہوا عمل ہے جو انسانی حقوق اور جمہوریت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

لیاؤ چھانگ جیانگ نے کہا کہ اس ایکٹ سے صرف مختلف فرقوں کے درمیان غلط فہمی میں اضافہ ہوگا۔ امریکی سیاستدانوں نے دعوی کیا ہے کہ ایکٹ کا مقصد ہانگ کانگ کی مدد کرنا ہے ، مگر حقیقت میں یہ ہانگ کانگ عوام کے لیے ایذا رسانی کا سبب ہے۔ اس کے علاوہ اس بل سے ہانگ کانگ میں امریکی تجارتی ماحول، اور ہانگ کانگ -امریکہ تعلقات پر منفی اثرات پڑیں گے اور آخر کار امریکہ کے مفادات کوبھی نقصان پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں