چین مسلسل سازگار عالمی مسابقت کو برقرار رکھے ہوئے ہے، سی آر آئی کا تبصرہ

چین مسلسل، سازگار عالمی مسابقت کو برقرار رکھے ہوئے ہے، سی آر آئی کا تبصرہ

نو اکتوبر کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں سال دو ہزار انیس کے لئے عالمی مسابقتی رپورٹ جاری کی گئی۔

اس رپورٹ کے مطابق عالمی مسابقت کی مجموعی درجہ بندی میں پچھلے سال کی طرح اس سال بھی چین اٹھائیسویں نمبر پر ہے، تاہم پچھلے سال کے مقابلے میں مجموعی اسکور میں ایک اعشاریہ تین کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چین مسلسل، سازگار عالمی مسابقت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

وسیع منڈی اور مستحکم میکرو معیشت چین کی عالمی مسابقت میں استحکام کے سنگِ بنیاد ہیں۔ تخلیقی صلاحیت کی مضبوطی، چین کی عالمی مسابقت کو مسلسل بلند کرنے کے لئے ایندھن فراہم کرتی ہے۔ اس وقت جدت کاری کے حوالے سے چین بھر میں ہونے والی سرمایہ کاری میں چینی کاروباری اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کا تناسب ستر فیصد سے زیادہ ہے۔ علی بابا، ہوا وے اور ٹین سنٹ سمیت دیگر کاروباری ادارے عالمی تکنیکی تخلیقات میں پیش پیش ہیں۔

عالمی مسابقتی رپورٹ ۲۰۱۹ سے کھلے پن اور تعاون کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ کے تجارتی حلقوں میں غیر یقینی صورتحال میں تجارتی کھلے پن کی کمی نے امریکہ کے عالمی مسابقت کے جامع اسکور پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور اسی وجہ سے اس فہرست میں امریکہ خود کو پہلی درجہ بندی برقرار نہیں رکھ سکا۔

تجارتی تحفظ پسندی اور یکطرفہ پسندی میں مسلسل اضافے کی موجودہ صورتحال میں چین ہمیشہ سے غیر متزلزل طور پر کھلے پن کو توسیع دیتے ہوئے تعاون اور باہمی مفادات کے حصول کے لئے کوشش کرتا آیا ہے۔ چین اپنی عالمی اقتصادی مسابقت کو برقرار رکھنے اور عوام کے مفادات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی اقتصادی ترقی کے لئے بھی مسلسل نئی قوت فراہم کرتا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں