چین کی جانب سے سوئس وفاقی حکومت کے سنکیانگ سے متعلق جاری کردہ اعلامیے کی مخالفت

چین کی جانب سے سوئس وفاقی حکومت کے سنکیانگ سے متعلق جاری کردہ اعلامیے کی مخالفت

چھبیس نومبر کو سوئس وفاقی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر سنکیانگ کے امور سے متعلق ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں سنکیانگ کی صورتحال پر نام نہاد تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

سوئٹزرلینڈمیں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے ستائیس تاریخ کو اس حوالے سے کہاکہ سوئس حکومت کا یہ قدم چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے اور چینی سفارتخانے اس کی سخت مخالفت اور تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سنکیانگ کے امور مذہبی ، قومی یا انسانی حقوق کی بجائے پرتشدد دہشت گردی کے خلاف اور انسداد علیحدگی پسندی کے امور ہیں۔دو ہزار پندرہ کے بعد سے چین نے اس حوالے سے سات وائٹ پیپرز جاری کیے تاہم متعلقہ سوئس اہلکار نے حقیقت پر مبنی ان وائٹ پیپرز کو سمجھے بغیر جعلی خبروں میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا۔

ترجمان نے کہا کہ انیس سو نوے سے دو ہزار سولہ کے اواخر تک سنکیانگ میں ہزاروں پرتشدد دہشتگردانہ واقعات رونما ہوئے جن میں بٰڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے۔سنکیانگ ویغور خوداختیارعلاقے کی حکومت کے مرحلہ وار اقدامات کے باعث گزشتہ تین برسوں کے دوران یہاں کوئی پرتشدد دہشت گرد واقعہ رونما نہیں ہوا۔ مختلف قومیتوں کے عوام کے لیے صحت ،ترقی سمیت دیگر بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنایا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سوئس حکومت نے اعلامیے میں نام نہاد “اپیل” کی کہ چین اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو سنکیانگ جانے کی اجازت دے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ بنیادی معلومات سے لاعلم ہے۔گزشتہ سال کے اواخر سے ہزاروں غیرملکی شخصیات کو سنکیانگ جانے کی دعوت دی گئی جن میں سوئس شخصیات بھی شامل تھیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ چین تو پہلے ہی یو این کے انسانی حقوق ہائی کمشنر کو سنکیانگ کے دورے کی دعوت دے چکا ہے لہذا سوئس حکومت کی” اپیل” کا قطعاً کوئی جواز نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں