پاکستان کے مختلف حلقوں کی جانب سے سی پیک پر بے بنیاد امریکی بیانات مسترد

پاکستان کے مختلف حلقوں کی جانب سے سی پیک پر بے بنیاد امریکی بیانات مسترد

امریکی قائم مقام نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کی جانب سے سی پیک سے متعلق بیانات کو مختلف پاکستانی حلقوں نے مسترد کیا ہے۔

پاکستان میں سی پیک منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر اور خیبر پختونخواہ سرمایہ کاری بورڈ کے موجودہ سربراہ حسان داود بٹ نے کہا کہ امریکی قائم قام نائب وزیر خارجہ کا بیان حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات اسد عمر نے اس حوالے سےایک جامع جوابی بیان دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ سی پیک سے پاکستان کے قرضوں پر کسی بھی قسم کا اضافہ نہیں ہو گا۔سی پیک کے حوالے سے جتنے بھی منصوبہ جات ہیں، اُن کی فنڈنگ کے حوالے سے ایک بہترین نظام اپنایا گیا ہے۔ اس وقت جس انداز سے پاکستان کی جی ڈی پی میں اضافہ ہو رہا ہے تو واضح کہا جا سکتا ہے کسی بھی صورت میں سی پیک منصوبہ جات قرضوں میں اضافے کا باعث نہیں بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک سے پاکستانیوں کے لیے براہ راست تہتر ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور آئںدہ دو سے تین برسوں میں دیگر سی پیک منصوبہ جات کی بدولت یہ تعداد تقریباً چار لاکھ تک پہنچ جائے گی ۔

پاکستان کے پائیدا ترقیاتی پالیسی ادارے کے محقق شفقت منیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا مجموعی قرضہ ستر ارب امریکی ڈالرز ہے۔ چین سے لیا جانے والا قرضہ دس ارب ڈالرز ہے جس میں سی پیک سے متعلق قرضہ چار ارب نوے کروڑ ڈالرز ہے جو پاکستان کے مجموعی قرضوں کا دس فیصد سے بھی کم ہے۔اس لیے نام نہاد “قرضوں کا بوجھ” بے بنیاد ہے۔

سینئر تجزیہ نگار فیاض کیانی نے کہا کہ کئی سال پہلے جب پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا تھا تو امریکہ نے اس وقت پاکستان کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا اور چین نے پاکستان کو مدد فراہم کی۔ دو ہزار چودہ سے قبل پاکستان میں روزانہ چھ سے بارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی لیکن اب صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے۔سی پیک کے ڈھانچے کے تحت ساہیوال اوربن قاسم بجلی گھروں میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت مستحکم طور پر بجلی کی فراہمی جاری ہے اور بجلی کی قیمت بھی معقول ہے۔

پنچاب کے سابق وزیر اعلیٰ حسن عسکری رضوی نے کہا کہ ایلس ویلز کی باتوں کی بنیادی وجہ امریکا میں دائیں بازو کے حلقوں میں پائے جانے والے تحفظات ہیں۔ انہی طبقوں نے چین امریکا تجارتی کشمکش کو بھی جنم دیا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ مختلف بہانوں سے چین کے خلاف بیانات جاری کرتی رہتی ہے۔ سی پیک کے حوالے سے حالیہ بیانات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں