وزیر خارجہ کی سری لنکن صدر سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

وزیر خارجہ اور سری لنکن قیادت کا باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو دسمبر کو کولمبو میں سری لنکا کے نئے منتخب صدر گوتا بایا راجاپاکسے سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت اور قوم کی طرف سے گوتا بایا راجا پاکسے کو سری لنکا کے 7 ویں صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ شاہ محمود قریشی نے سری لنکا کے صدر کو صدر مملکت عارف علوی کا خط بھی پہنچایا جس میں انہیں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر یقین ظاہر کیا کہ گوتا بایا پاکسے کی قیادت میں پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

انہوں نے دہشتگردی کا بہادری سے مقابلہ کرنے پر سری لنکا کے عوام کی تعریف کی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سری لنکا کے مشکل وقت میں ہمیشہ اس کا ساتھ دیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کے فروغ کی وسیع گنجائش ہے۔ سری لنکا کے صدر نے اپنے انتخاب پر نیک خواہشات کا اظہار کرنے اور دورے کی دعوت دینے پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کولمبو میں سری لنکا کے وزیر خارجہ Dinesh Gunawardena سے بھی ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر ایک دوسرے کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت ستر سال سے زائد عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالیاں کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے دونوں ملکوں کا باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کا موجودہ حجم بڑھانے کیلئے سری لنکا کے ہم منصب کو تاجروں کے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن اور استحکام کے لئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
بعدازا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ فریقین نے دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ تعلقات کو مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں