مغربی میڈیا ہانگ کانگ میں انتشار پھیلانے کا ازالہ نہیں کر سکتے، سی آر آئی کا تبصرہ

مغربی میڈیا ہانگ کانگ میں انتشار پھیلانے کا ازالہ نہیں کر سکتے، سی آر آئی کا تبصرہ

ہانگ کانگ حکومت کے لئے کام کرنے والے ایک اہلکار جو گزشتہ دنوں کسی آہنی شے کے سر پر ٹکرانے سے زخمی ہو گئے تھے، یہ مضروب اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چودہ تاریخ کو انتقال کر گیے۔

یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ شائد یہ اہلکار ہنگامی میں شریک کسی فرد کی جانب سے پھینکی گئی وزنی چیز سے زخمی ہوئے تھے۔ ہانگ کانگ میں جاری حالیہ فسادات کے آغاز کے بعد یہ کسی بھی پہلے بے گناہ شہری کی موت ہے اور حالیہ دنوں میں ہانگ کانگ کے پرتشدد مظاہروں میں پیش آنے والے سنگین واقعات میں سے یہ بھی ایک ہے جو بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنا ہے۔

بی بی سی، سی این این، اور نیو یارک ٹائم جیسے مغربی میڈیا، جنہوں نے ہانگ کانگ کے فسادات کو جمہوریت کے لئے جدوجہد قرار دیا تھا، نے اپنی اپنی رپورٹنگ میں خاموشی سے “غیر مسلح” جیسے الفاظ کو ختم کردیا اور انتہا پسندوں کے تشدد کی کوریج کرنے لگے۔

تاہم اس تبدیلی کا یہ مطلب ہر گزنہیں ہے کہ ان ذرائع ابلاغ کا ضمیر زندہ ہو چکا ہے، بلکہ وہ ہانگ کانگ کے امور پر دوہرے معیار سے گھڑی ہوئی اپنی جھوٹی کہانیوں کے لئے جواز تلاش کر رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں، جب اسی طرح کے تشدد کی لہر اسپین، چلی، اور یہاں تک کہ نیو یارک میں بھی پھیلنے لگی ہے، امریکی ایوان زیریں کی اسپیکر نینسی پیلوسی، جنہوں نے ہانگ کانگ کے تشدد کو ایک “خوبصورت منظر” کہا تھا، وہ بھی اب مکمل طور پر چپ سادھ چکی ہیں۔

حقیقت اب بالکل واضح ہے: ہانگ کانگ میں بے گناہ شہریوں کا خون بہہ رہا ہے، اور اس بحران کے بڑے معاشی نقصانات سامنے آ رہے ہیں، اب یہ مغربی میڈیا اور سیاستدان ہانگ کانگ کے فسادات کے حوالے سے جلتی پر تیل کا کام کرنے کے اپنے اصل گناہ کا ازالہ نہیں کر سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں