مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں چین کے مؤقف کا اظہار

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں چین کے مؤقف کا اظہار

سولہ اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں “بھارت اور پاکستان” کے درمیان جاری تناؤ کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ کی جانب سے کشمیر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں مرتب کی گئی رپورٹ اور اقوام متحدہ کے پاکستان اور بھارت میں کام کرنے والے فوجی مبصر گروپ کی رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی۔

اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب چانگ جون نے چینی و غیر ملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس مسئلے پر چین کے موقف پر روشنی ڈالی ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ تاریخ کا چھوڑا ہوا حل طلب مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ” اقوام متحدہ کے منشور ” سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقہ اختیار ہونا چاہیئے ۔ اس بات پر عالمی برادری کا مکمل اتفاق رائے ہے ۔

چانگ جون نے مزید کہا کہ بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کی موجودہ حالت کو تبدیل کیا جس کے نتیجے میں خطے میں صورتحال کی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہےاور صورتحال میں کشیدگی بڑھانے کے یک طرفہ عمل کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نےمسئلے کے متعلقہ فریقوں سے صبر وتحمل سے کام لینے کی اپیل کی ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات سے چین کے اقتدار اعلی کو بھی چیلنج کیا گیا ہے جو فریقین کے درمیان طے شدہ سرحدی علاقے میں امن کے تحفظ کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ بھارت کے ان اقدامات سے چین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی ان اقدامات سے اس حقیقت کو بدلا جاسکتا ہے کہ یہ علاقے چین کے اقتدار اعلی کے ماتحت، چین کے دائرہ اخیتار میں اور چین کی انتظامی حدود میں ہیں۔

چانگ جون نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں چین کے اچھے ہمسایہ ممالک ہیں ۔ دونوں بڑے ترقی پزیر ممالک ہیں اور ترقی کے اہم دور سے گزر رہے ہیں ۔ چین اپیل کرتا ہے کہ بھارت اور پاکستان جنوبی ایشیا کے امن کو اہمیت دیتے ہوئے پرامن طریقے سے تنازعات کو حل کریں اور خطے کے امن و استحکام کا تحفظ کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں