دوہرے معیار کے ساتھ کھیلنے کا انجام برا ہوگا، سی آر آئی کا تبصرہ

دوہرے معیار کے ساتھ کھیلنے کا انجام برا ہوگا، سی آر آئی کا تبصرہ

حال ہی میں، امریکہ نے متکبرانہ انداز میں نام نہاد “ہانگ کانگ ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی بل” کو قانون کی شکل دے کر “جمہوریت” اور “انسانی حقوق” کی آڑ میں ہانگ کانگ کے امور میں مداخلت کا ارتکاب کیا ہے۔

یہ امریکی اقدام بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس اقدام نے ایک بار پھر امریکہ کے چہرے سے نقاب اتار کر اس کےمنافقانہ اور غاصبانہ طرز عمل کو عیاں کر دیا ہے۔ عالمی اصولوں اور رائے عامہ کے برعکس اٹھایا گیا یہ قدم یقیناً ناکامی سے دوچار ہوگا۔

کسی بھی قانون پسند معاشرے کے لئے پرتشدد جرائم کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہیں، اور کوئی بھی مہذب ملک ایسے اقدامات کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتا۔ اگر ہانگ کانگ میں رونما ہونے والے پرتشدد فسادات جیسے واقعات خود امریکہ میں رونما ہوتے تو قانون نافذ کرنے والے امریکی ادارے ان واقعات سے آہنی ہاتھوں سے نمٹتے۔ گزشتہ سال، امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت سارے مظاہروں سے نمٹا بھی ہے۔

اگر مظاہرین قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہیں تو ان کو قرار واقعی سزائیں دی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے فرانس کے سابق سینئر سفارت کار، لیانیل ویرون نے اشارتاً بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مغرب میں کہیں بھی دکانوں کو توڑنے، عوامی سہولیات کو تباہ کرنے اور اسکولوں پر قبضہ کرنے جیسے واقعات رونما ہوں تو انھیں “غنڈہ گردی” کہا جائے گا۔ تاہم ، ہانگ کانگ میں ان حرکتوں کو “حصول جمہوریت” کا نام نہاد اظہار قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ کو یہ جان لینا چاہیئے کہ دوہرا معیار ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر آپ اسے دوسروں پر لہراتے ہیں تو آپ بھی خود اس کی زد میں آئیں گے۔ کچھ امریکی سیاستدانوں کے لئے یہ مشورہ ہے کہ ہانگ کانگ کے معاملات میں مداخلت کو فوری طور پر بند کردیں! کوئی بیرونی خطرہ یا دباؤ چینی عوام کو خوفزدہ نہیں کرسکتا، کوئی طاقت چینی قوم کے نشاط ثانیہ کے عمل کو نہیں روک سکتی۔ ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام کو نقصان پہنچانے اور چین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنےکی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں