بیجنگ میں تہذیبی تبادلے اور باہمی تعلم کا پہلا ڈائیلاگ

سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے ترجمان نے نام نہاد "خفیہ دستاویزات"پر بے بنیاد تشہیر کو مسترد کر دیا

اٹھائیس نومبر کو تہذیبی تبادلے اور باہمی تعلم کا پہلا ڈائیلاگ بیجنگ میں منعقد ہوا۔ ڈائیلاگ میں شرکا نے ” خوبصورت دنیا کی تعمیر، جس میں تہذیبی تبادلے اور باہمی تعلم کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جیا جائے” کے موضوع پر گفت و شنید کی۔

چین کی قومی عوامی کانگریس کی مجلس قائمہ کے نائب صدر اور چین کی انٹرنیشنل ایکسچینج ایسوسی ایشن کے صدر جی بین شوان نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے ایشیائی تہذیب و تمدن ڈائیلاگ کانفرنس میں نشاندہی کی تھی کہ تہذیب و تمدن میں تنوع کی وجہ سے تبادلے، تبادلوں کی وجہ سے باہمی تعلم اور باہمی تعلم کی وجہ سے ترقی ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ڈائیلاگ کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، مختلف تہذیب و تمدن کے مابین مل کر سیکھنے اور روابط کے لئے ایک پل بنایا جائے، عالمی امن کے تحفظ کے لئے قریبی روابط بڑھائے جائیں نیز انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی مشترکہ تعمیر کے لیے انسانی اور ثقافتی بنیاد کو بھی مضبوط بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں