اقوام متحدہ کی ایشیاء و بحرالکاہل میں خواتین کے حقوق کی جائزہ کانفرنس کا انعقاد

اقوام متحدہ کی ایشیاء و بحرالکاہل میں خواتین کے حقوق کی جائزہ کانفرنس کا انعقاد

انتیس نومبر کو اقوام متحدہ کی ایشیاء اور بحرالکاہل علاقے میں خواتین کے حقوق کی صورت حال کا جائزہ لینے کی کانفرنس تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں اختتام پزیر ہوئی۔

کانفرنس میں سینتیس کے مقابلے میں ایک ووٹ کے ذریعے صنفی مساوات اور خواتین کو با اختیار بنانے کے فروغ پر ایشیاء اور بحرالکاہل کے علاقے کے وزارتی اعلامیے “کی منظوری دی گئی۔ مخالفت کا واحد ووٹ امریکہ کی جانب سے دیا گیا۔ اس کانفرنس کے دوران آئندہ برس “بیجنگ اعلامیہ” کی پچیسویں سالگرہ کی مبارک باد بھی پیش کی گئی۔

یہ کانفرنس بہت اہمیت کی حامل ہے۔ جس میں چالیس سے زیادہ ممالک نے حکومتی وفود بھیجے، جن میں چوبیس ممالک نے وزارتی وفود بھیجے۔ تمام فریقین نے بیجنگ ورلڈ ویمن کانگریس کی تاریخی حیثیت اور کارناموں کو بہت زیادہ سراہا ہے، اور صنفی مساوات اور خواتین کے اسباب کی ترقی کے لئے” بیجنگ سپرٹ” کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔

نتائج کے اعلان کے بعد ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا۔ امریکہ تنہا ہوچکا ہے اور اس پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کے اتحادی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی امریکہ کے سخت مؤقف پر کھل کر بات کی ہے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ چین کے نمائندے نے خطاب میں اپیل کی کہ کثیرالطرفہ پسندی پر گامزن رہا جائے، اور یکطرفہ ملکیت رکھنے والے انفرادی ممالک کو “ساحل کی طرف پلٹ جانے” پر زور دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں