اقوام متحدہ کے صنعت و تجارت اور انسانی حقوق کے آٹھویں فورم میں دی بیلٹ اینڈ روڈ کے کردار اور اہمیت کا ذکر

اقوام متحدہ کے صنعت و تجارت اور انسانی حقوق کے آٹھویں فورم میں دی بیلٹ اینڈ روڈ کے کردار اور اہمیت کا ذکر

چھبیس نومبر کو جینیوا میں اقوام متحدہ کے صنعت و تجارت اور انسانی حقوق کے آٹھویں فورم میں چینی ماہرین نے دی بیلٹ اینڈ روڈ کے اہم کردار پر روشنی ڈالی ۔

چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقاتی مرکز کے ماہر گاؤ شی جی ، بین الاقوامی ترقیاتی معلومات کے مرکز کے ماہر چو تھائی دونگ سمیت دیگر ماہرین نے فورم میں بیان کیا کہ چین نے ایک سو سینتیس ممالک اور تیس عالمی تنظیموں کے ساتھ دی بیلٹ اینڈ روڈ سے متعلق تعاون کی ایک سو ستانوے دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔

دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر سے وابستہ ممالک کی بنیادی تنصیبات کو بہتر بنایا گیا ہے ، اشیا اور خدمات کی تجارت کو فروغ ملا ہے ،سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور روزگار کے موقع فراہم کیے گئے ہیں ، یوں متعلقہ ممالک میں غربت کے خاتمے،عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر کرنے میں مدد ملی ہے اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دیا گیا ہے۔

چینی ماہرین نے کہا کہ چین دوسرے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے، باہمی تبادلوں اور تقلید کو فروغ دینے، عوام کے لیے ترقیاتی تصور پر قائم رہتے ہوئے مشترکہ ترقی کی تکمیل کے لیے تیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں