آج حکیم محمد سعید کا 21 واں یومِ شہادت منایا جا رہا ہے

آج حکیم محمد سعید کا یومِ شہادت منایا جا رہا ہے

آج حکیم محمد سعید کا21 واں یومِ شہادت منایا جا رہا ہے-

حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920 کو دہلی میں پیدا ہوئے، وہیں سے طب کی تعلیم حاصل کی۔ 1948 میں اپنا گھر، دواخانہ اور کاروبار چھوڑ کر پاکستان آئے۔ نصف صدی میں جو کچھہ کمایا، خلقِ خدا کیلئے وقف کردیا۔ اپنے نام کوئی اثاثہ نہیں رکھا۔ انہوں نے تقریباً نصف کروڑ مریضوں کا طبی معائنہ کیا، کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔ حکیم محمد سعید بچپن سے ہی غیرمعمولی ذہانت اورحیرت انگیز یاداشت کے مالک تھے، آپ نے نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور پھر حکمت کی تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے۔

حکیم محمد سعید پاکستان کے بڑے شہروں میں ہفتہ وار مریضوں کو دیکھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ ان کا ادارہ ہمدرد بھی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی تمام تر آمدنی ریسرچ اور دیگر فلاحی خدمات پر صرف ہوتی ہے۔

حکیم حافظ محمد سعید 1993 سے 1996 تک سندھ کے گورنر رہے اور اس دوران بھی باقاعدگی سے اپنے مریضوں کو دیکھتے تھے، جب انھیں گورنر بنایا گیا اور اس کی اطلاع دینے کے لیے ان کے گھر فون کیا گیا تو وہ سورہے تھے، حکام کو بتایا گیا کہ حکیم صاحب سورہے ہیں، صبح تہجد میں اٹھیں گے، اس سے قبل بات ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے حکمت میں اسلامی دنیا اور پاکستان کے لیے اہم خدمات انجام دیں، مذہب اور طب وحکمت پر200 سے زائد کتابیں لکھیں۔ ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے قائم کردہ اہم ادارے ہیں۔ جو آج تک پاکستان کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔

حکیم سعید بچوں اور بچوں کے ادب سے بے حد شغف رکھتے تھے۔ اپنی شہادت تک وہ اپنے ہی شروع کردہ رسالے ہمدرد نونہال سے مکمل طور پر وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نونہال ادب کے نام سے بچوں کے لیے کتب کا سلسلہ شروع کیا جو ابھی تک جاری ہے۔ اس سلسلے میں کئی مختلف موضوعات پر کتب شائع کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہترین عالمی ادب کے تراجم بھی شائع کیے جاتے ہیں۔

17اکتوبر 1998 کی صبح بھی وہ آرام باغ میں واقع اپنے مطب پہنچے ہی تھے کہ دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ حکیم سعید کو انہی کی قائم کردہ ہمدرد یونیورسٹی میں سپرد خاک کیا گیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں