ساٹھ فیصد جی ڈی پی امریکہ کی مد مقابل کو دی جانے والی ریڈ لائن ہے!

موجودہ ہفتے میں امریکہ اور چین نے بالترتیب ایک دوسرے کے لئے سولہ ارب امریکی ڈالرز کی مصنوعات پر پچیس فیصد کے اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر امریکہ کی طرف سے یہ پالیسی اپنانے کا مقصد امریکہ اور چین کے درمیان” غیر متوازن تجارت کا مسلہ حل کرنا ہے تاہم اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ امریکہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے والے مد مقابل کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اپنے لئے زیادہ سے زیادہ اقتصادی منافع حاصل کرنا چاہتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائَے تو امریکہ کے قیام کے بعد گزشتہ دو سو سالوں میں امریکہ نے سابق سوویت یونین اور جاپان کے خلاف اس قسم کے اقدامات اختیار کئے تھے اور ان دونوں ممالک کی جی ڈی پی امریکہ کی جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے زائد ہوئی۔ جاپان کو امریکہ کے ساتھ مجبوری کے تحت ایک معاہدہ طے کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں جاپان کی معیشت بیس سال تک کمی بیشی کا شکار رہی۔
اس وقت دو ہزار چودہ میں چین کی جی ڈی پی پہلی مرتبہ امریکہ کی جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے تجاوز کر گئی اور ساٹھ فیصد امریکہ کی ریڈ لائن ہے۔ لیکن آج کا چین اُس وقت کے جاپان سے مختلف ہے۔ چین کی اپنی بڑی منڈی ہے اور دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کا وسیع پلیٹ فارم بھی ہے۔ اس کے علاوہ چین نے اپنے مستحکم سیاسی نظام کے ساتھ طویل المدتی ترقی کی منصوبہ بندی کی ہے اور مزید یہ کہ چین عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لئے چین کی ترقی کی بنیاد مضبوط ہے اور ترقی کے رجحان کو روکا نہیں کیا جا سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

three × 5 =